اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کو معاشی ترقی کے لیے آئی ٹی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کر دی گئیں جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت آئی ٹی شعبے میں افرادی قوت کی تکنیکی تربیت، ٹیکس میں آسانیوں اور دیگر امور میں بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان …
حکومت آئی ٹی شعبے میں افرادی قوت کی تکنیکی تربیت، ٹیکس میں آسانیوں اور دیگر امور میں بہتری کیلئے کوشاں ہے، شہباز شریف
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کو معاشی ترقی کے لیے آئی ٹی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کر دی گئیں جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت آئی ٹی شعبے میں افرادی قوت کی تکنیکی تربیت، ٹیکس میں آسانیوں اور دیگر امور میں بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار معاشی ترقی کے لیے آئی ٹی شعبے کے حوالے سے قائم نجی شعبے کے ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، جام کمال خان، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے، آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور آئی ٹی شعبے میں دیگر اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں۔
وزیراعظم نے آصف پیر کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ معاشی مسائل کے باوجود ملکی آئی ٹی شعبے نے ترقی کی، آئی ٹی برآمدات میں بتدریج اضافہ انتہائی خوش آئند ہے، آئی ٹی کی تکنیکی تربیت کے لیے تمام اقدامات پاکستانی نوجوانوں کو عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں بطور تجربہ کار افرادی قوت متعارف کرانے پر مرکوز ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مزید اقدامات لیے جائیں اور ملک میں آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کی ترویج صارفین کی انٹرنیٹ تک رسائی پر منحصر ہے۔ وزیراعظم نے وزیر خزانہ کی سربراہی میں بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کو اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات کا جائزہ لے کر دو ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ڈیٹا پر مبنی گورننس ماڈل کی تشکیل پر بریفنگ دی گئی ۔
اجلاس میں برآمدات کے لیے مارکیٹ شیئر بڑھانے، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی مکمل ڈیجیٹائزیشن، ای روزگار سکیم اور سٹارٹ اپ اینوویشن ایکوسسٹم جیسے اقدامات پر نجی شعبے کی جانب سے حکومتی اقدامات کو سراہا گیا۔









