حکومت بحیرۂ عرب میں پائے جانے والے سمندری ممالیہ خصوصاً وہیل اور ڈولفن کے تحفظ کیلئے پُرعزم ہے ،وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کا پیغام

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بحیرۂ عرب میں پائے جانے والے سمندری ممالیہ خصوصاً وہیل اور ڈولفن کے تحفظ کیلئے پُرعزم ہے کیونکہ یہ مخلوقات ساحلی ماحولیاتی نظام، بلیو اکانومی اور قومی روزگار میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ سمندری ممالیہ کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر بحری امور نے خبردار کیا کہ وہیل …

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بحیرۂ عرب میں پائے جانے والے سمندری ممالیہ خصوصاً وہیل اور ڈولفن کے تحفظ کیلئے پُرعزم ہے کیونکہ یہ مخلوقات ساحلی ماحولیاتی نظام، بلیو اکانومی اور قومی روزگار میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

سمندری ممالیہ کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر بحری امور نے خبردار کیا کہ وہیل اور ڈولفن کو اوورفشنگ، بائی کیچ، جہازوں کے شور، آلودگی اور ان کے مسکن کی تباہی جیسے بڑھتے خطرات لاحق ہیں تاہم یہ مخلوقات بحیرۂ عرب کے ماحولیاتی توازن کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر تجارتی وہیلنگ پر 1986 میں پابندی کے بعد اس دن کا مقصد وہیل، ڈولفن اور دیگر سمندری ممالیہ کو آلودگی، ماہی گیری کے جال اور مسکن کی تباہی سے بچانے کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان کے سمندری پانیوں میں اب تک وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام ریکارڈ ہوچکی ہیں۔وزیر بحری امور نے بلوچستان کے ساحل خصوصاً گوادر کے قریب نایاب عربین سی ہمپ بیک وہیل کی حالیہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہی گیر کی جانب سے بیک وقت چھ وہیل کی اچھلتی ہوئی مناظر کی ریکارڈنگ ان کی آبادی میں بہتری کی علامت ہے۔

اسی طرح گوادر کے ایسٹ بے میں برائیڈز وہیل کے گروہ اور نومبر 2025 میں ویسٹ بے میں باٹلنوز ڈولفن کے بڑے غول کی موجودگی ساحلی حیاتیاتی تنوع کی عکاس ہے۔انہوں نے انڈس ڈیلٹا، چرنا آئی لینڈ، اورمڑا اور استولا آئی لینڈ کو سمندری ممالیہ کے اہم مسکن قرار دیتے ہوئے ماہی گیروں کی جانب سے سمندری حیات کی نشاندہی اور رپورٹنگ کو قابلِ ستائش قرار دیا۔

محمد جنید انوار چوہدری نے عوام سے پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ساحلی صفائی مہمات میں شرکت اور سمندری تحفظ سے متعلق آگاہی بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار طرزِ عمل اپنانے سے نہ صرف سمندری ماحولیاتی نظام محفوظ ہوگا بلکہ پاکستان کی بلیو اکانومی کو بھی فروغ ملے گا۔