حکومت صنعتی مسابقت میں اضافہ اور برآمدات پرمبنی نمو کےلئے پرعزم ہے، ٹیکس چوری کی روک تھام اور تکمیلی عمل میں بہتری کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی برطانوی ہائی کمشنر سے گفتگو

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت صنعتی مسابقت میں اضافہ اور برآمدات پرمبنی نمو کےلئے پرعزم ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اورکریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری سے ملکی معیشت پربیرونی اعتمادکی عکاسی ہورہی ہے، ٹیکس چوری کی روک تھام اور تکمیلی عمل میں بہتری کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت صنعتی مسابقت میں اضافہ اور برآمدات پرمبنی نمو کےلئے پرعزم ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اورکریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری سے ملکی معیشت پربیرونی اعتمادکی عکاسی ہورہی ہے، ٹیکس چوری کی روک تھام اور تکمیلی عمل میں بہتری کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیر خزانہ نے ہائی کمشنر کو خوش آمدید کہتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے طویل المدتی ترقیاتی تعلقات پر تشکر کااظہارکیا۔ انہوں نے برطانوی حکومت کی مسلسل حمایت بالخصوص ڈیجیٹلائزیشن، پبلک فنانشل مینجمنٹ، ماحولیاتی وموسمیاتی موزونیت و استحکام اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں تعاون پربھی شکریہ ادا کیا۔

وزیر خزانہ نے واشنگٹن ڈی سی میں برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی و افریقہ جینی چیپ مین سے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے برطانیہ کے قیمتی تعاون جس میں ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور ماحولیاتی پروگراموں کے لیے تعاون شامل ہے، کو سراہا۔ وزیر خزانہ نے ہائی کمشنر کو پاکستان میں کلی معیشت کے پائیداراستحکام ونمو کیلئے جاری معیاری اقتصادی اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب معاشی استحکام کوپائیدارترقی ونمو کی جانب گامزن کرنے کی راہ پر ہے، کریڈٹ ریٹنگ کی تینوں عالمی ایجنسیوں نے تین سال کے وقفے کے بعد پاکستان کے اقتصادی پیش منظر کو بہتر قرار دیا ہے جو ملک کی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کامظہرہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ حال ہی میں آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف سطح کے معاہدے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور دوطرفہ شراکت داروں سے وسیع تر رابطوں سے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر بڑھتے ہوئے بیرونی اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے۔

وزیرخزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کلی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ ساتھ ہی درمیانی مدت میں سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمت عملی اپنانے پر کام جاری ہے تاکہ ماضی کے عروج و زوال کے معاشی چکروں سے نجات حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ چار سے پانچ برسوں میں اضافی کسٹم ڈیوٹیوں میں تدریجی کمی کے ذریعے تجارتی نظام میں نرمی لانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ صنعتی مسابقت میں اضافہ ہو اور برآمدی ترقی کو فروغ ملے۔ سرمایہ کاری کے ماحول اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کاذکرکرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ایسے قابل سرمایہ منصوبوں کی تیاری پر کام کر رہی ہے جو نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی کاروباری گروپس کی جانب سے نجکاری کے عمل میں بڑھتی ہوئی دلچسپی خوش آئند ہے اور بزنس ٹو بزنس روابط سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے ہائی کمشنر کو جاری ٹیکس اصلاحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو دستاویزی معیشت ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس نیٹ کی وسعت اور لیکجز میں کمی پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ ٹیکس چوری کی روک تھام اور تکمیلی عمل میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ایمانداری پر مبنی جائزہ نظام متعارف کرانے اور سروس ڈیلیوری میں بہتری کے ذریعے عوام کا ٹیکس نظام پر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ چونکہ ٹیکس پالیسی کا اختیار اب ایف بی آر سے الگ ہو چکا ہے، اس لیے وزارت خزانہ شعبہ وار مشاورتی نظام تشکیل دے رہی ہے تاکہ صنعتوں سے مسلسل مشاورت کا عمل جاری رہے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ چند کلیدی شعبوں میں مربوط پالیسی مداخلت کی ضرورت ہے جن میں ماہر افرادی قوت کو ملک میں برقرار رکھنے کے لیے مراعا ت، آئی ٹی شعبے میں ٹیکس سے متعلق مخصوص چیلنجز اور کاروبار میں آسانیو ں کو مزید بہتر بنانا شامل ہیں تاکہ غیر ملکی ماہرین اور سرمایہ کاروں کے لیے ماحول مزید سازگار بنایا جا سکے۔ برطانوی ہائی کمشنر نے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کو مشکل معاشی اصلاحات پر کامیابی سے عملدرآمد، 14 سال بعد پرائمری سرپلس کی واپسی اور مالی نظم و ضبط میں بہتری پر مبارکباد دی۔

انہوں نے حکومت کے اصلاحاتی تسلسل کے عزم کو سراہا اور طویل المدتی اقتصادی ترقی کے لیے واضح سمت اختیار کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ہائی کمشنرنے کراچی سمیت کاروباری برادری کی جانب سے موصول ہونے والے مثبت تاثرات شیئر کیے اور کہا کہ سرمایہ کاروں کا حکومت کی اقتصادی سمت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو، بالخصوص ٹیکس دہندگان کے ساتھ سماجی معاہدے کو مستحکم کرنا، ماہر افرادی قوت کی دستیابی میں بہتری اور پاکستان میں غیر ملکی ایگزیکٹوز کے لیے سہل کاروباری ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

ہائی کمشنر نے حکومت کی ٹیکس انتظامیہ اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اصلاحات کو خوش آئند قرار دیا اور برطانیہ کی جانب سے بالخصوص آئی ٹی، ماحولیاتی مالیات اور پبلک فنانشل مینجمنٹ کے ترجیحی شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ریمیٹ کے ذریعے برطانوی تعاون میں اضافے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور جاری مشترکہ منصوبوں پر بروقت پیش رفت کی اہمیت پر زور دیا۔ فریقین نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے بالخصوص معاشی اصلاحات، ماحولیاتی اقدامات، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور پائیدار ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔