حکومت مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے ایجنڈے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے، وزیرمملکت برائے خزانہ کاپاکستان بنکنگ سمٹ سے خطاب

وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ مضبوط، شفاف اور جدید بینکاری نظام ملکی معیشت کی پائیدار ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور نجی شعبے کو آسان مالی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے

اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ مضبوط، شفاف اور جدید بینکاری نظام ملکی معیشت کی پائیدار ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور نجی شعبے کو آسان مالی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے ،حکومت مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے ایجنڈے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے اور معیشت مزید مستحکم ہو۔انہوں نے یہ بات منگل کوکراچی میں منعقدہ پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ بینکاری شعبہ قومی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور حکومت نجی شعبے کو باآسانی مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بینکاری نظام نہ صرف اقتصادی سرگرمیوں کو وسعت دیتا ہے بلکہ پائیدار اقتصادی نمو کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان میں کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ گزشتہ سال جون میں ملک بھر میں ڈیجیٹل مرچنٹس کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل بینکاری استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد گزشتہ سال جون میں 9 کروڑ 50 لاکھ تھی، جسے رواں سال جون تک 12 کروڑ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم یہ تعداد ہدف سے بڑھ کر 13 کروڑ 50 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈیجیٹل مالیاتی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ گزشتہ سال ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کا حجم 6.9 ارب تھا، جو اب بڑھ کر 11.3 ارب تک پہنچ چکا ہے ۔یہ کامیابیاں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ڈیجیٹل پاکستان وژن اور اس کے تحت کیے گئے موثر اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو وسعت دینے میں’’ راست ‘‘کیوآر کوڈ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی ملک میں قابلِ اعتماد اور محفوظ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہے ، مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل سرکاری ڈھانچے کے بغیر مکمل کیش لیس معیشت کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں فائبرائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رائٹ آف وے سے متعلق اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے سماجی تحفظ کے پروگراموں اور سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دی گئی ہیں، جبکہ رمضان ریلیف پیکیج کی سبسڈی بھی اسی طریقہ کار کے ذریعے مستحقین تک پہنچائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتی ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے لیے اقدامات تیزی سے جاری ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ حکومت نے رواں سال کے اختتام تک تمام سرکاری ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کے درمیان ہونے والی مالی ادائیگیوں (پیپلز ٹو پیپلز) اور شہریوں کی جانب سے سرکاری اداروں کو کی جانے والی ادائیگیوں کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ اس مقصد کے حصول کے لیے صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ان تمام اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کیش لیس پاکستان کے وژن پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیراعظم شہباز شریف کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور وزیراعظم خود اس پورے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں وزیراعظم کی ہدایت پر ڈیجیٹائزیشن کے عمل کی نگرانی ایک آزاد تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھی کرائی جا رہی ہے تاکہ شفافیت اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر مملکت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں بینکوں، مالیاتی اداروں اور پاکستان بینکرز ایسوسی ایشن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اس نظام کو مزید موثر، شفاف، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

مزید خبریں