حکومت معاشی سفارت کاری کے لئے مربوط حکمت عملی کی تیاری کا منصوبہ بنا رہی ہے ،وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سٹرٹیجک پالیسی پلاننگ ڈاکٹر معید یوسف

اسلام آباد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سٹرٹیجک پالیسی پلاننگ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ حکومت معاشی و اقتصادی سفارتکاری کے لئے مربوط حکمت عملی کی تیاری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا موضوع ” سرچنگ فارا کنامک سکیورٹی اینڈ گروتھ …

اسلام آباد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سٹرٹیجک پالیسی پلاننگ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ حکومت معاشی و اقتصادی سفارتکاری کے لئے مربوط حکمت عملی کی تیاری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا موضوع ” سرچنگ فارا کنامک سکیورٹی اینڈ گروتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی اولین ترجیح کے طور پر اقتصادی سفارتکاری پر بھر پور توجہ دینے کا پہلے ہی اعلان کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ہم سب اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ مستقبل میں ہماری تمام تر ترقی اور نمو مضبوط معیشت میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تجارت کو فروغ دینے کے حوالہ سے پہلے ہی روزانہ اقتصادی سفارتکاری کر رہا ہے تاہم اس ضمن میں ہمیں اپنا دائرہ کار دنیا بھر میں ہونے والی پیش رفتوں، نئے مواقع اور چیلنجز کے عین مطابق وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مقصد سیاحت ، آئی ٹی ثقافت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھر پور استفادہ کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں قائم سٹرٹیجک پلاننگ سیل کو بین الوزارتی رابطہ کاری کے مکینزم والامربوط منصوبہ بنانے کا کام سونپا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اقتصادی کامیابیوں کو یقینی بنایا جا سکے اور یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو گا کہ ہم مشترکہ وژن ، فریم ورک اور اہداف کے ساتھ اقتصادی سفارتی حکمت عملی لائیں گے ۔ ڈاکٹر معید یوسف نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اس مشترکہ وژن پر عمل درآمد سے پاکستان کی مثبت ساکھ کو حقیقی معنوں میں فروغ ملے گا۔ انہوںنے کہا کہ سکیورٹی کے عسکری، اقتصادی ، اور انسانی پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر مضبوط نہیں ہو سکتا۔