حکومت نے مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں پر 1.5 بلین سیلز ٹیکس سبسڈی کی منظوری دے دی

اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی)حکومت نے مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں پر 1.5 بلین سیلز ٹیکس سبسڈی کی منظوری دے دی ہے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے جاری بیان میں میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے کووڈ 19 وبائی امراض کے تناظر میں 1200 ارب سے زائد کے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ اس پیکیج میں زراعت کے لئے 50 ارب رکھے گئے …

اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی)حکومت نے مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں پر 1.5 بلین سیلز ٹیکس سبسڈی کی منظوری دے دی ہے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے جاری بیان میں میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے کووڈ 19 وبائی امراض کے تناظر میں 1200 ارب سے زائد کے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ اس پیکیج میں زراعت کے لئے 50 ارب رکھے گئے تھے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 13مئی کو منعقدہ اپنے اجلاس میں ، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ذریعہ پیش کردہ تجاویز کی منظوری دی۔ایک سال کے لئے مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں کو 5 فیصد سیلز ٹیکس کی سبسڈیدی جائے گی۔اس وقت ہر ٹریکٹر کی فروخت پر 5فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہے۔پاکستان میں مینوفیکچرنگ کے دو اہم یونٹ ہیں۔ مسی فرگوسن اور الغازی کا مارکیٹ شیئر بالترتیب 60فیصد اور 40فیصد ہے۔اس وقت ہر ٹریکٹر کی فروخت پر 5فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔2019 کے دوران دونوں یونٹوں کی سالانہ فروخت 41،000 یونٹ تھی اور اوسط سیلز ٹیکس 60.000 روپے فی ٹریکٹر ہے۔مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں کو سیلز ٹیکس کی سبسڈی ایک سال کے لئے دی گئی ہے۔سبسڈی کی کل لاگت ڈیڑھ ارب روپے ہے۔سبسڈی کی عمل درآمد یکی طریقہ کار کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو جی ایس ٹی سبسڈی کو بوٹیفائی کرے گا (ایک سال کے لئے مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں پر 5فیصد جی ایس ٹی رکھا گیا ہے)مقامی ٹریکٹر مینوفیکچر ہر اگلے مہینے کے 5 ویں دن ایف بی آر اور وزارت کو رپورٹ کریں گے.وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ماہانہ بنیادوں پر فرانزک آڈٹ کے ذریعے کسانوں کے مفادات کے لئے سبسڈی کے مناسب استعمال کی تصدیق کو یقینی بنائے گی۔مالی سال 2020ـ21 کے دوران سبسڈی کیلئے دائرہ اختیار میں پورا پاکستان شامل ہے۔

مزید خبریں