اسلام آباد ۔ 4 جون (اے پی پی)وفاقی وزیرصنعت وپیداوارحماداظہر نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان سٹیل ملز کے آپریشنز کی نجکاری کافیصلہ کیاہے کیونکہ ادارہ سفید ہاتھی بن چکاہے اوریہ قومی خزانہ پرایک بڑابوجھ ہے،موجودہ حکومت برسراقتدارآئی تو پاکستان سٹیل ملزکو 176 ارب روپے کے خسارے کا سامناتھا جبکہ اس کے سود میں بھی دن بدن اضافہ ہورہاتھاماضی کی حکومتوں نے سٹیل ملز کے ایشوکو حل نہیں کیااسلئے …
حکومت نے پاکستان سٹیل ملز کے آپریشنز کی نجکاری کافیصلہ کیا ہے کیونکہ ادارہ سفید ہاتھی بن چکاہے ، ہزاروں ایکڑ اراضی بدستور پاکستان سٹیل ملز کارپوریشن کے پاس رہے گی سٹیل ملازمین کو 23 لاکھ روپے فی کس کی شرح سے ادائیگی کی جائیگی علاوہ ازیں یہ ملازمین نجی شعبے میں اپنی خدمات دے سکتے ہیں، وفاقی وزیرصنعت وپیداوارحماداظہر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 جون (اے پی پی)وفاقی وزیرصنعت وپیداوارحماداظہر نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان سٹیل ملز کے آپریشنز کی نجکاری کافیصلہ کیاہے کیونکہ ادارہ سفید ہاتھی بن چکاہے اوریہ قومی خزانہ پرایک بڑابوجھ ہے،موجودہ حکومت برسراقتدارآئی تو پاکستان سٹیل ملزکو 176 ارب روپے کے خسارے کا سامناتھا جبکہ اس کے سود میں بھی دن بدن اضافہ ہورہاتھاماضی کی حکومتوں نے سٹیل ملز کے ایشوکو حل نہیں کیااسلئے موجودہ حکومت کو ملکی مفاد میں اس کا حتمی حل ڈھونڈنا پڑا،اس فیصلے سے حکومت ماہانہ قومی خزانہ کے 70 کروڑ روپے بچائیگی۔ یہ بات انہوں نے پاکستان سٹیل ملز کے چئیرمین امیرممتازاورمنیجنگ ڈائریکٹرشیرعالم کے ہمراہ جمعرات کویہاں ایک پریس بریفنگ میں کہی۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین گزشتہ کئی برسوں سے کام نہیں کررہے تھے، سٹیل ملازمین کو 23 لاکھ روپے فی کس کی شرح سے ادائیگی کی جائیگی علاوہ ازیں یہ ملازمین نجی شعبے میں اپنی خدمات دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 2008-09 میں پیپلز پارٹی کے دورمیں پاکستان سٹیل ملز منافع دینے والے ادارے سے نقصان دینے والے ادارے کی شکل میں تبدیل ہوا، مسلم لیگ ن کے دورمیں سٹیل ملز کا آپریشنل کام رک کیا۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ ایک مرحلہ پر پاکستان سٹیل ملزکے ملازمین کی تعداد30 ہزارتھی تاہم ان میں سے بیشترریٹائرہوچکے ہیں اوراس وقت ملز میں 9 ہزارکے قریب ملازمین کام کررہے ہیں۔ پاکستان سٹیل ملز گزشتہ پانچ سالوں سے بند تھی اورماضی کی حکومتوں نے اسے چلانے کیلئے کوئی منصوبہ نہیں بنایا، حکومت نے بند ملز کے ملازمین کو تنخواہوں اوردیگرمراعات کی مد 55 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے، جب موجودہ حکومت برسراقتدارآئی تو پاکستان سٹیل ملزکو 176 ارب روپے کے خسارے کا سامناتھا جبکہ اس کے سود میں بھی دن بدن اضافہ ہورہاتھا۔ حماداظہرنے کہاکہ ماضی کی حکومتوں نے سٹیل ملز کے ایشوکو حل نہیں کیااسلئے موجودہ حکومت کو ملکی مفاد میں اس کا حتمی حل ڈھونڈنا پڑا، انہوں نے کہاکہ اس فیصلے سے حکومت ماہانہ قومی خزانہ کے 70 کروڑ روپے بچائیگی۔وفاقی وزیرنے کہاکہ سپریم کورٹ نے بھی کہاتھا کہ حکومت ایک بند ملزکے ملازمین کو تنخواہیں کیوں دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان سٹیل ملز کے آپریشنل ورک میں 15 پارٹیاں دلچسپی لے رہی ہیں۔ وفاقی وزیرنے وضاحت کی پاکستان سٹیل ملز کے صرف آپریشنز کو نجی شعبے میں دیا جارہاہے ، ملز کی ہزاروں ایکڑ اراضی بدستورپاکستان سٹیل ملز کارپوریشن کے پاس رہے گی۔








