اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معان خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے رش والی جگہوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا ہے، کورونا وائرس کا ابھی تک نہ کوئی علاج ہے اور نہ ابھی تک ویکسین بنائی گئی ہے، امریکہ کی ایک کمپنی نے دوا بنا کر کہا ہے کہ یہ کورونا کیلئے مؤثر دوا ہے، چند ہفتوں …
حکومت پاکستان نے رش والی جگہوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا ہے، کورونا وائرس کا ابھی تک نہ کوئی علاج ہے اور نہ ابھی تک ویکسین بنائی گئی ہے، ا وزیراعظم کے معان خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی میڈیا بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معان خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے رش والی جگہوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا ہے، کورونا وائرس کا ابھی تک نہ کوئی علاج ہے اور نہ ابھی تک ویکسین بنائی گئی ہے، امریکہ کی ایک کمپنی نے دوا بنا کر کہا ہے کہ یہ کورونا کیلئے مؤثر دوا ہے، چند ہفتوں میں اس دوا کی تیاری شروع ہو جائے گی۔ جمعہ کو کورونا کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے دوا ساز کمپنی کے حکام سے ویڈیو کانفرنس کی ہے، اس دوران بتایا گیا ہے کہ اس دوا کے استعمال سے 30 فیصد کمی آئی ہے، دنیا میں پانچ کمپنیوں کو لائسنس دیا گیا ہے جو یہ دوا بنا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہفتوں میں پاکستان میں اس دوا کی تیاری ہو جائے گی، پاکستان سے یہ دوا 127 ممالک کو ایکسپورٹ بھی کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے امکان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوا کا نام میڈیسویر ہے جو انجکشن کی صورت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے خلاف صف اول میں لڑنے والے ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کیلئے پہلا ٹریننگ شروع کیا ہے، ہم کورونا پر جس طرح توجہ دے رہے ہیں اس دوارن دوسری بیماریوں کا پھیلائو بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بیماری اور غربت کا گہرا کا تعلق ہے اور ان بیماریوں کا پھیلائو غریب افراد میں زیادہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ طبی ماہرین کے حفاظتی سامان کے استعمال کے حوالہ سے بہت سے مسائل تھے جس کیلئے ٹریننگ پروگرام شروع کیا ہے اور ملک بھر کے ایک لاکھ سے زائد طبی ماہرین کو یہ ٹریننگ دی جائے گی تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ کس نے کب اور کیسے یہ طبی حفاظتی سامان استعمال کرنا ہے، چار ہفتوں میں ٹریننگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 5 ہزار لوگوں کو تربیت دیں گے جو انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں تاکہ وہ بہتر طریقہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکیں، یہ بھی چار ہفتے کی ٹریننگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسک کا استعمال لازمی قرار دیدیا گیا ہے، اب اس ماسک پہننے پر سختی کی جائے گی اور تمام رش والی جگہوں پر ماسک کا استعمال لازمی ہو گا۔







