حکومت پاکستان نے فنڈ ریپیڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ کے تحت مالی معاونت کی درخواست کی ہے آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کی حکومت کی درخواست پرعاجلانہ کام کررہی ہے تاکہ اسے جلد ازجلد آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا جاسکے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جارجیویا کا بیان

اسلام آباد ۔ 27 مارچ (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے فنڈ ریپیڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آرایف آئی) کے تحت مالی معاونت کی درخواست کی ہے اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کی حکومت کی درخواست پرعاجلانہ کام کررہی ہے تاکہ اسے جلد ازجلد آئی ائم ایف کے انتظامی بورڈ کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا جاسکے، پاکستان کو …

اسلام آباد ۔ 27 مارچ (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے فنڈ ریپیڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آرایف آئی) کے تحت مالی معاونت کی درخواست کی ہے اور آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کی حکومت کی درخواست پرعاجلانہ کام کررہی ہے تاکہ اسے جلد ازجلد آئی ائم ایف کے انتظامی بورڈ کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا جاسکے، پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پرمالی تعاون کی فراہمی سے حکومت کو ادائیگیوں میں توازن کے اضافی اورضروری ادائیگیوں اورملک کے شدید متاثرہونے والے شعبوں کو فنڈز کی بروقت اورسہل فراہمی میں مدد ملے گی ۔گزشتہ روز جاری بیان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جارجیویا نے کہاہے کہ پاکستان کے حکام اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے اصلاحات کے پروگرام کے ضمن میں کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم کرونا وائرس کی وباء کے تباہ کن ثرات اوراس کے نتیجہ میں خراب ہوتے ہوئے عالمی اقتصادی اورمالیاتی حالات کی وجہ سے اصلاحات میں پیش رفت کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان اوران کی حکومت نے کرونا وائرس کی وباء سے نمٹنے اوراس کے نتیجے میں متاثرہونے والے شہریوں اورکاروبارکیلئے اقتصادی امداد کے پیکج کی منظوری دی ہے، اسی طرح سٹیٹ بنک نے برقت اقدامات اٹھائے ہیں جن میں شرح سود میں کمی ، سرمایہ کے بہائو کیئے نئے قرضے دینا اورضابطے کی کاروائیوں میں عارضی رعایت دینا شامل ہے۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرنے بتایا کہ ان کوششوںمیں تقویت لانے اورعوام ومعیشت کو مناسب ریلیف کی فراہمی کیلئے پاکستان کی حکومت نے فنڈ ریپیڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آرایف آئی) کے تحت مالی معاونت کی درخواست کی ہے، پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پرمالی تعاون کی فراہمی سے حکومت کو ادائیگیوں میں توازن کے اضافی اورضروری ادائیگیوں اورملک کے شدید متاثرہونے والے شعبوں جن میں سماجی تحفظ، یومیہ اجرت پرکام کرنے والے مزدوروں اور صحت عامہ کے نظام کو فنڈز کی بروقت اورسہل فراہمی میں مدد ملیگی۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کی حکومت کی درخواست پرعاجلانہ کام کررہی ہے تاکہ اسے جلد ازجلد آئی ائم ایف کے انتظامی بورڈ کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا جاسکے۔کرسٹلینا جارجیویا نے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے حکام نے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت اصلاحات کے پروگرام کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاہے، یہ اصلاحات پاکستان کے اقتصادی بڑھوتری کے امکانات کو بڑھانے کیلئے اہمیت کے حامل ہیں اوراس کے ثمرات تمام پاکستانیوں بالخصوص معاشرے کے کمزورطبقات تک پہنچیں گے۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم پاکستان کے اقتصادی اورڈھانچہ جاتی اصلاحات کے پروگرام پر عمل درآمد میں ہر ممکنہ تعاون کویقینی بنائے گا۔