حکومت کو سخت سائبر قوانین بنانے چاہئے، متعلقہ ادارے سائبر کرائمز کو عام جرم سے ہٹ کر سمجھنا چاہئے، اس پر بھرپور توجہ دینی ہوگی ، موبائل فون اور کمپیوٹر کو استعمال کرنے والے افراد کی کونسلنگ ضروری ہے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کا سائبر قوانین کے حوالے سے سیمینار سے خطاب

لاہور۔15 فروری(اے پی پی )چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ دنیا میں سائبر جرائم اور قوانین کے حوالے سے بہت کام ہو رہا ہے، حکومت کوبھی سخت سائبر قوانین بنانے چاہئے ، متعلقہ اداروں کو سائبر کرائمز کو عام جرم سے ہٹ کر سمجھنا چاہیے ، اس پر بھرپور توجہ دینی ہوگی ، موبائل فون اور کمپیوٹر کو استعمال کرنے والے افراد کی کونسلنگ ضروری …

لاہور۔15 فروری(اے پی پی )چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ دنیا میں سائبر جرائم اور قوانین کے حوالے سے بہت کام ہو رہا ہے، حکومت کوبھی سخت سائبر قوانین بنانے چاہئے ، متعلقہ اداروں کو سائبر کرائمز کو عام جرم سے ہٹ کر سمجھنا چاہیے ، اس پر بھرپور توجہ دینی ہوگی ، موبائل فون اور کمپیوٹر کو استعمال کرنے والے افراد کی کونسلنگ ضروری ہے۔وہ ہفتہ کے روز لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر انتظام سائبر قوانین کے حوالے سے ایک روزہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر تقریب میں نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان، جسٹس شاہد وحید، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس ملک شہزاد احمد، جسٹس مجاہد مستقیم احمد، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس جواد حسن، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اشترعباس اور سیشن جج ہیومن ریسورس ساجد علی اعوان بھی موجود تھے۔ سائبر لاء سیمینار میں ججز، وکلائ، فرانزک ایجنسی، پولیس، ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے نمائندے اور ماہرین بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ پاکستان میں سائبر کرائمز کے حوالے سے پہلا قانون 2016 میں بنا لیکن اس کے بعد اب کچھ کام ہوتا ہوا نظر آرہا ہے، مگر باعث افسوس ہے با ت ہے کہ پاکستان میں متعلقہ ادارے اس کو صرف ایک عام شکایت سمجھتے ہیں، ہمارے اداروں کو سائبر کرائمز کو عام جرم سے ہٹ کر سمجھنا چاہیے اور اس پر بھرپور توجہ دینا ہوگی جبکہ متاثرین کو جلد از جلد ریلیف مہیا کرنا ہوگا۔ فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ موبائل فون اور کمپیوٹر کو مثبت اور منفی طو ر پر استعمال کرنے والے دونوں طرح کے افراد کی کونسلنگ ضروری ہے، اس کے لئے مختلف این جی اوز کو کردار ادا کرنا ہوگا اور حکومت کو بھی سخت سائبر قوانین بنانے ہونگے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری خواتین سمیت دیگر متاثرین بہت جلد انٹرنیٹ بلیک میلنگ سے نجات حاصل کرلیں گے۔سیمینار کے شرکاء سے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے "سائبر جرائم ایک عوامی مسئلہ” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مختلف قسم کے سائبر جرائم ہیں جس سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہورہے ہیں، سائبر جرائم پر قابو پانے کیلئے سائبر قانون بھی موجود ہے لیکن عام آدمی کو آگہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورجری، سپیمنگ، آن لائن فنانشل فراڈ اور سوشل میڈیا کے ذریعے کسی کی ذات کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر جرائم سائبر قوانین کے تحت آتے ہیں، مناسب ایجوکیشن نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سائبر قوانین کے بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتے، ڈیجیٹل سیفٹی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، ہمارے اداروں کو لوگوں کی ڈیجیٹل سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے موثر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیرِ اہتمام اس سیمینار کے بہت بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ قبل از یں سیمینار کے شرکاء سے تعارفی اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر کا کہنا تھا کہ دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت انسان کی زندگی میں انقلاب آیا ہے، جہاں ایک طرف انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل کے مثبت پہلو ہیں وہاں بہت سارے منفی پہلو بھی ہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کی بدولت بہت سے مسائل بھی سامنے آتے ہیں،پو ری دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچنے کیلئے مختلف قوانین کو اپنایا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی سائبر قوانین پر کام ہورہا ہے لیکن ہم دنیا سے ابھی بہت پیچھے ہیں، پاکستان میں سائبر کرائمز سے متعلق قوانین تو موجود ہیں لیکن مناسب انداز میں ان قوانین کا نفاذ نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے سیمینار کے انعقاد کے اغراض و مقاصد بھی بتائے۔ اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید، برطانوی ہائی کمشنر، ڈائریکٹر ایف آئی آے سائبر کرائمز ونگ وقار احمد چوہان سمیت دیگر سائبر کرائمز و سائبر لاء ماہرین نے بھی سائبر کرائمز اور سائبر لاء کے مختلف پہلوؤں، نفاذ کے طریقہ کار اور اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔