اسلام آباد ۔ 5 دسمبر (اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے چیئرمین بریگیڈئیر محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایل این جی معاہدے منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے جس سے افواہیں دم توڈ گئی ہیں اور توانائی کی مارکیٹ میں استحکام آگیا ہے‘ حکومت نے موسم سرما میں ایکسپورٹ انڈسٹری کی گیس منقطع نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو …
حکومت کی جانب سے ایل این جی معاہدے منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے‘ چیئرمین پاکستان اکانومی واچ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 دسمبر (اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے چیئرمین بریگیڈئیر محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایل این جی معاہدے منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے جس سے افواہیں دم توڈ گئی ہیں اور توانائی کی مارکیٹ میں استحکام آگیا ہے‘ حکومت نے موسم سرما میں ایکسپورٹ انڈسٹری کی گیس منقطع نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو لائق تحسین ہے‘ مقامی گیس کے بعد ترکمانستان کی گیس سب سے سستی ہے جس کی جلد از جلد درامد کے انتظامات کی ضرورت ہے۔ محمد اسلم خان نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایل این جی کی قیمت مقامی گیس سے دوگنا ہے جس کی وجہ سے ایک صوبے کی صنعت جو مقامی گیس استعمال کر رہی ہے کو دوسرے صوبے کی صنعت جو ایل این جی استعمال کر رہی ہے پر غیر ضروری فوقیت مل رہی ہے‘ حکومت اس فرق کو ختم کرنے کے لئے سبسڈی کا سہارا نہ لے کیونکہ اس سے اخراجات بڑھ جائیں گے بلکہ گیس کے شعبہ میں اصلاحات لائے۔ اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے سالانہ نقصانات اڑتالیس ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اس لئے گیس کی لیکیج اور چوری پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور ان محکموں سے کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے جبکہ صنعتکاروں کو آگاہ کیا جائے کہ سستی گیس کا زمانہ چلا گیا ہے۔








