خصوصی افراد کو عزت، برابری اور باوقار زندگی گزارنے کے تمام مواقع فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کا خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی پیغام

اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک بھر میں قابل رسائی انفراسٹرکچر، خصوصی تعلیمی اداروں، سپورٹ سروسز، ٹرانسپورٹ کی آسانیاں اور جامع پالیسیوں کا تسلسل خصوصی افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ بدھ کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے …

اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک بھر میں قابل رسائی انفراسٹرکچر، خصوصی تعلیمی اداروں، سپورٹ سروسز، ٹرانسپورٹ کی آسانیاں اور جامع پالیسیوں کا تسلسل خصوصی افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔

بدھ کو سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ خصوصی افراد معاشرے کا وہ اہم حصہ ہیں جنہیں عزت، برابری اور باوقار زندگی گزارنے کے وہ تمام مواقع فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے جن کے وہ پوری طرح مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مہذب معاشرہ ہمیشہ اپنے کمزور طبقات کی دیکھ بھال کرتا ہے اور خصوصی افراد کی شمولیت، فلاح اور بااختیار بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات ترقی یافتہ معاشروں کی پہچان ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ خصوصی افراد کی صلاحیتیں کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہوتیں، اصل رکاوٹیں وہ سماجی اور معاشرتی بندشیں، سہولیات کی کمی اور رسائی کے مسائل ہیں جو ان کے آگے بڑھنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہر شہری کو یکساں مواقع حاصل ہوں اور خصوصی افراد کو تعلیم، صحت، روزگار اور ضروری سہولیات تک سہل رسائی میسر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان بالا خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ، فلاح و بہبود اور بہتر مستقبل کے لیے قانون سازی کو اولین ترجیح دیتا رہا ہے۔ پارلیمنٹ نے ہمیشہ ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی ہے جن کے ذریعے خصوصی افراد کی معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی شمولیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ خصوصی افراد کو معیاری تعلیم، سکل ڈویلپمنٹ، ٹیکنیکل ٹریننگ، صحت عامہ کی موثر سہولیات اور بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لیے مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو مشترکہ طور پر ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے خصوصی افراد کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کیا جا سکے جو انہیں خود مختار اور بااعتماد شہری بنانے میں معاون ثابت ہو۔ پاکستان میں اس حوالے سے کام کرنے والے اداروں، این جی اوز اور بین الاقوامی تنظیموں کی خدمات قابل ستائش ہیں اور ضروری ہے کہ ان کے تجربے اور معاونت سے مزید فائدہ اٹھایا جائے تاکہ ملک میں خصوصی افراد کی بحالی، تربیت اور فلاح کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق مستحکم کیا جا سکے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک بھر میں قابل رسائی انفراسٹرکچر، خصوصی تعلیمی اداروں، سپورٹ سروسز، ٹرانسپورٹ کی آسانیاں اور جامع پالیسیوں کا تسلسل خصوصی افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد اپنی ہمت، حوصلے اور جذبے کے ساتھ نہ صرف خود کو منوا رہے ہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک مثال بھی بن رہے ہیں۔ ہمیں ان کی کامیابیوں کو سراہنا، ان کا ساتھ دینا اور انہیں وہ تمام سہولیات مہیا کرنا ہوں گی جو انہیں اپنے خوابوں کی تکمیل اور اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار میں مدد دے سکیں۔

آخر میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے امید ظاہر کی کہ خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر میں منعقد کی جانے والی سرگرمیاں اور آگاہی پروگرام عوام میں یہ شعور بیدار کریں گے کہ خصوصی افراد کا سماجی کردار کس قدر اہم ہے اور انہیں زیادہ بااختیار، محفوظ اور شمولیتی معاشرہ فراہم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر ایک ایسا پاکستان تشکیل دینا ہے جہاں ہر شہری خواہ وہ کسی بھی حیثیت سے ہو بلا تفریق اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملک و قوم کی ترقی میں کردار ادا کر سکے۔