24.2 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںخطے میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں، دریائے چناب میں طغیانی کے...

خطے میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں، دریائے چناب میں طغیانی کے باوجود بہترین کوآرڈینیشن سے بڑے نقصان سے محفوظ رہے، عطاء اللہ تارڑ

- Advertisement -

وزیر آباد۔28اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دریائے چناب میں طغیانی کی وجہ سے وزیر آباد کو خطرہ لاحق تھا، بہترین کوآرڈینیشن کی وجہ سے بڑے نقصان سے محفوظ رہے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تمام اداروں نے ٹیم ورک کے طور پر کام کیا، پاک فوج کی کاوشیں جاری رہیں، پورے خطے میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں، تین سے چار ویدر سسٹم اکٹھے آئے، مزید بارشوں کی پیشنگوئی ہے جس کے لئے ہماری بھرپور تیاری ہے، آبی گذرگاہوں کے قریب تعمیرات کو روکنا ہوگا۔ جمعرات کو یہاں ڈی سی آفس میں میڈیا کو سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گوجرانوالہ میں دریائے چناب میں طغیانی کی وجہ سے وزیر آباد کو خطرہ لاحق تھا، پانی کا بہائو دس سے ساڑھے دس لاکھ کیوسک کے درمیان رہا جبکہ ماضی میں چھ لاکھ کیوسک سے زائد پانی کو اونچے درجے کا سیلاب تصور کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین کوآرڈینیشن کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بروقت الرٹ جاری کیا، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے موثر اور تیز رسپانس دیا جبکہ پاک فوج کی کاوشیں بھی ہر مقام پر نمایاں رہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوری انخلاء، ریلیف اور بحالی کے اقدامات کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قومی رسپانس ہے، ایسی مثالی کوآرڈینیشن کم ہی دیکھنے کو ملے گی، جیسے ہی سیلابی ریلا آیا، انتظامیہ بھی تیار تھی اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کو ممکن بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ سڑکوں کی بحالی کے حوالے سے سروے آج شام تک مکمل ہو جائے گا، وزیراعظم نے این ایچ اے کو صوبائی سڑکوں کی بحالی کے لئے تعاون کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری بھی گوجرانوالہ آ رہے ہیں، بجلی کے کچھ فیڈرز کو عوام کے تحفظ کے پیش نظر بند کیا گیا تھا تاکہ کرنٹ کا خطرہ نہ ہو، وہ بھی بحال کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء، خیمے اور ادویات کے حوالے سے تمام انتطامات موجود ہیں، پاک فوج امدادی کارروائیوں میں شریک ہے جبکہ مال مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی مشکلات کا احساس ہے، جن لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں، پوری انتظامیہ اس کوشش میں ہے کہ ان کے گھروں کو بحال کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی ہے، جب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا طغیانی کا خطرہ موجود رہے گا، شہری احتیاط برتیں، شہریوں کو ملیریا اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جا رہی ہے اور انتظامیہ بھی اس حوالے سے متحرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوہدرہ روڈ پر پانی آہستہ آہستہ واپس جا رہا ہے، اس وقت پانی کا بہائو خانکی میں ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک اور قادر آباد میں چھ لاکھ 60 ہزار کیوسک ہے۔ وزیر آباد کے علاقے خانکی اور قادر آباد کے ساتھ دیہات الحمد اللہ محفوظ ہیں، ہم بڑے نقصان سے بچ گئے ہیں، بروقت اور پیشگی اطلاع کی وجہ سے یہ ممکن ہو سکا ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار تھی، تمام ادارے ٹیم ورک کے طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ میڈیا کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے، آئندہ بھی کوشش ہوگی کہ اسی طرح ٹیم ورک کے ساتھ ریلیف اور ریسکیو سرگرمیاں جاری رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے وہاں متاثرہ عوام کو دوبارہ آباد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بہترین انتظامات کو سراہا جانا چاہئے۔ تمام اداروں نے بھرپور کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں بڑے نقصان سے بچائو ممکن ہوا اور یہ تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو پوری پاکستانی قوم متحد ہو جاتی ہے، خیبر پختونخوا کی طرح یہاں بھی ہم مل جل کر صورتحال کو بہتر بنائیں گے، عوام نے بھی مشکل وقت میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا، آئندہ چند دنوں میں صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خطے میں بارشیں معمول سے زیادہ ہوئیں، پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ تین چار ویدر سسٹم اکٹھے آئے، مزید بارشوں کی پیشنگوئی ہے جس کے لئے ہماری بھرپور تیاری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آبی گذر گاہوں کے قریب تعمیرات کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لئے فی کس 20 لاکھ روپے معاوضہ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اب وقت ہے کہ واٹر سٹوریجز، ڈیمز اور ڈرینجز بنائے جائیں، اس پر کام جاری ہے اور جیسے ہی ہنگامی صورتحال ختم ہوگی، قومی سطح پر اہم فیصلے کئے جائیں گے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں