اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ خواتین سے متعلق قوانین کے حوالے سے آگاہی اور ان خواتین وکلاء کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیئے اقدامات سے ہی خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ وہ آسٹریلین ہائی کمیشن میں '' قانون میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھانے'{'{ کی ورچوئل لانچنگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ …
خواتین سے متعلق قوانین کے حوالے سے آگاہی اور خواتین وکلاء کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیئے اقدامات سے ہی خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے، وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ خواتین سے متعلق قوانین کے حوالے سے آگاہی اور ان خواتین وکلاء کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیئے اقدامات سے ہی خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ وہ آسٹریلین ہائی کمیشن میں ” قانون میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھانے'{‘{ کی ورچوئل لانچنگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تقریب فیس بک پر براہ راست نشر کی گئی۔وزیر قانون نے مزید کہا کہ ملک میں قابل خواتین ججوں کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیم یافتہ اور وکلاء خواتین بھی ہیں۔ انہوں نے کہا اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ ہم صنفی غیرجانبدار نہیں ہیں، تاہم پاکستان کا آئین اور قوانین خواتین کے ساتھ کسی بھی طرح سے امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال جج لبنیٰ سلیم پرویز نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی پہلی خاتون جج کی حیثیت سے حلف لیا تھا اور چیف جسٹس ان کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔ پاکستان میں مجموعی طور پرسوچ بدل چکی ہے اور عدلیہ میں خواتین کو وہ مقام دیا جارہا ہے ، جس کی اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ برسر اقتدار حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے ایجنڈے پر بہت کام کیا ہے۔ ہم نے خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لئے قانون بنایا ہے۔ اگر صحیح معنون میں قانون پر عمل درآمد ہوتا ہے تو ،محتسب کے پاس شکایت درج کروانے کے تین ماہ کے اندر اس کی جائیداد پر عورت کے حقوق کی ضمانت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس اہم قانون سازی اور اس طرح کے دیگر قوانین کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی خواتین کو ان کے حقوق سے محروم نہ کرے ، اور یہ بھی کہ خواتین کو معلوم ہو کہ ان کواپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا کس طرح ازالہ کرنا ہے۔انہوں نے ‘قانون میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ’ کے اقدام کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کے سمپوزیم اور ورک شاپس سے قانونی پیشے میں نوجوان مردوں اور خواتین کی استعداد کار بڑھانے میں مدد ملے گی۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف بیرسٹر ملیکہ بخاری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے خواتین اور بچوں کو فوجداری مقدمات میں قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں خواتین سے متعلق ویب پورٹل / ایپ سے پاکستان میں خواتین وکلا کی شناخت میں مدد ملے گی۔ ‘قانون میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا’، آسٹریلیئن ہائی کمیشن ، گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان (جی ڈی پی) ، ویمن ان لاء نیٹ ورک اور برٹش ہائی کمیشن کا مشترکہ پروجیکٹ ہے جبکہ وزارت قانون و انصاف بھی اس اقدام میں تعاون اور سہولت فراہم کرے گی۔ اس مقصد کے لئے وزارت قانون و انصاف ، جی ڈی پی اور وومین لاء نیٹ ورک کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف بیرسٹر ملیکا بخاری، پاکستان میں آسٹریلیئن ہائی کمشنر ڈاکٹر جیوفری شا، پاکستان میں ڈپٹی برطانوی ہائی کمشنر مسز ایلیسن بلیک برن ، جی ڈی پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ویلری خان ، ویمین لاء نیٹورک کی ندا عثمان چوہدری اور وزارت قانون و انصاف کی امبرین عباسی نے بھی تقریب میں شرکت کی۔








