خیبرپختونخوا اسمبلی نے مالی سال 2026 کا فنانس بل منظور کر لیا
خیبرپختونخوا اسمبلی نے مالی سال 2026کے فنانس بل کی منظوری دے دی

مزید خبریں
پشاور۔ 24 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی نے مالی سال 2026کے فنانس بل کی منظوری دے دی۔ وزیر قانون آفتاب عالم نے بل کی منظوری کے لیے تحریک پیش کی، جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے متعدد ترامیم پیش کیں۔
احمد کریم کنڈی نے اپنی پہلی ترمیم میں مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا ایک سیاحتی صوبہ ہے، اس لیے ہوٹلوں پر عائد آکوپنسی ٹیکس ختم یا اس سے استثنیٰ دیا جائے۔ اس پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وضاحت کی کہ آکوپنسی ٹیکس اور سیلز ٹیکس الگ نوعیت کے محصولات ہیں۔ ان کے مطابق سیلز ٹیکس کمرہ بک کروانے والے صارف سے وصول کیا جاتا ہے، جبکہ آکوپنسی ٹیکس ہوٹل کی پراپرٹی پر عائد ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیکس 2002 سے نافذ ہے، جسے 10 فیصد سے کم کر کے پہلے 7 فیصد اور آئندہ مالی سال کے لیے مزید کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ وضاحت کے بعد احمد کریم کنڈی نے ترمیم واپس لے لی۔دوسری ترمیم پر بحث کرتے ہوئے احمد کریم کنڈی نے کہا کہ ڈاکٹروں پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، جس کا بوجھ بالآخر مریضوں پر پڑے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ کم فیس لینے والے ڈاکٹروں کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ایکسائز وزیر فخر جہاں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ سیلز ٹیکس ڈاکٹروں پر نہیں بلکہ آن لائن سروسز فراہم کرنے والوں پر لاگو ہوگا۔ تاہم احمد کریم کنڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل فنانس بل میں ڈاکٹروں کا ذکر موجود ہے اور ان پر پہلے ہی پروفیشنل ٹیکس عائد ہے۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ پروفیشنل ٹیکس ایک مرتبہ ادا کیا جاتا ہے اور حکومت نے اس ضمن میں ڈاکٹروں کو ریلیف بھی فراہم کیا ہے۔ بعد ازاں یہ ترمیم بھی واپس لے لی گئی۔تیسری ترمیم میں احمد کریم کنڈی نے پٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز پر فلیٹ ٹیکس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں کے کاروبار کا حجم ایک جیسا نہیں، اس لیے یکساں شرح ٹیکس مناسب نہیں۔ انہوں نے فلور ملز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور بیوٹی پارلرز پر عائد فلیٹ ٹیکسوں پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ جواب میں ایکسائز وزیر نے کہا کہ یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں بلکہ 2001 سے نافذ پرانے نظام کا تسلسل ہے۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے واضح کیا کہ ایک لاکھ روپے سالانہ ٹیکس صرف بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز پر لاگو ہوگا، جبکہ چھوٹے کاروباروں کو ریلیف دیا گیا ہے۔احمد کریم کنڈی کی جانب سے تمام ترامیم واپس لیے جانے کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی نے فنانس بل 2026 کی منظوری دے دی۔








