خیبرپختونخوا حکومت کا بنیادی مسئلہ فنڈز کی کمی نہیں بلکہ انتظامی ناکامی ہے، بلال اظہر کیانی

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے اصل مسائل مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ ناقص حکمرانی، انتظامی عدم توجہی اور بدانتظامی ہیں۔ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اسے وفاق کی جانب سے وسائل سے محروم رکھا جا رہا ہے اور کہا کہ ایسے الزامات …

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے اصل مسائل مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ ناقص حکمرانی، انتظامی عدم توجہی اور بدانتظامی ہیں۔ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اسے وفاق کی جانب سے وسائل سے محروم رکھا جا رہا ہے اور کہا کہ ایسے الزامات اپنی انتظامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی سیاسی ترجیحات عوامی فلاح اور مؤثر سروس ڈیلیوری کے بجائے وفاقی حکومت سے محاذ آرائی اور ایک فردِ واحد سے وابستگی کے گرد گھومتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بار بار اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری وفاق پر ڈالنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ فنڈز روک لیے گئے ہیں تاکہ ناقص حکمرانی اور کمزور کارکردگی کو چھپایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔ وفاقی حکومت نے مسلسل خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کیے ہیں، جن میں 17 دسمبر 2025 کو ہونے والی تازہ ترین منتقلی بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2010 سے نومبر 2025 تک وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو مجموعی طور پر 8,040 ارب روپے منتقل کیے جن میں 5,867 ارب روپے این ایف سی ایوارڈ کے تحت شامل ہیں۔ فنڈز ہر 15 دن بعد باقاعدگی سے جاری کیے گئے جس سے بروقت فراہمی یقینی بنائی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کا مکمل صوبائی حصہ مل چکا ہے اور کسی قسم کے واجبات باقی نہیں۔وزیر مملکت نے مزید بتایا کہ 17 دسمبر 2025 کو صوبائی حکومت کو این ایف سی کے تحت 46.44 ارب روپے جاری کیے گئے۔

اس کے علاوہ دہشت گردی کے اضافی بوجھ کے باعث 2010 سے صوبے کو ایک فیصد اضافی حصہ بھی دیا جا رہا ہے جس کی مجموعی رقم 705 ارب روپے بنتی ہے۔انہوں نے دیگر اہم رقوم کا بھی ذکر کیا، جن میں تیل و گیس کی رائلٹیز، 2019 سے ضم شدہ اضلاع کے لیے 704 ارب روپے، اندرونی طور پر بے گھر افراد کے لیے 117 ارب روپے، اس کے علاوہ دیگر ترقیاتی فنڈز اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی رقوم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام وسائل تسلسل کے ساتھ فراہم کیے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔بلال اظہر کیانی نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں اصل مسئلہ فنڈز کی دستیابی نہیں بلکہ انتظامی صلاحیت، ترجیحات کے تعین اور حکمرانی پر توجہ کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت، تعلیم اور عوامی فلاح جیسے اہم شعبوں میں مؤثر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہےجس کے باعث یہ شعبے بری طرح نظرانداز ہو رہے ہیں۔وزیر مملکت نے صوبائی انتظامیہ کی جانب سے گمراہ کن بیانیے پھیلانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وسائل کی کمی کے جھوٹے دعوؤں کے ذریعے اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حقائق اور اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں تاکہ عوام حقیقت کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی محاذ آرائی اور ذاتی ایجنڈوں کے بجائے مؤثر حکمرانی، عوامی فلاح اور فراہم کردہ وسائل کے درست استعمال پر توجہ دے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاست کو کمزور کرنے والے بیانیے کے بجائے عوام کے لیے سروس ڈیلیوری اور ترقیاتی نتائج پر توجہ مرکوز کرے۔