خیبرپختونخوا میں 105 ارب روپے سے 980 کلومیٹر سڑکیں اور 34 پل تعمیر کیے جائیں گے

خیبرپختونخوا حکومت رورل روڈز ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (کے پی-آر آر ڈی پی)کے تحت نومبر 2029 تک صوبے کے 18 اضلاع میں 980.9 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور 34 پل تعمیر کرے گی۔

اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت رورل روڈز ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (کے پی-آر آر ڈی پی)کے تحت نومبر 2029 تک صوبے کے 18 اضلاع میں 980.9 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور 34 پل تعمیر کرے گی۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) نے فروری 2024 میں 105 ارب 45 کروڑ روپے (تقریباً 37 کروڑ امریکی ڈالر)مالیت کے اس منصوبے کی منظوری دی تھی جس کا مقصد صوبے کے 18 اضلاع میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کر دیہی علاقوں کے لوگوں کو منڈیوں، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولتوں تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔منصوبے پر عمل درآمد صوبائی محکمہ مواصلات و تعمیرات کر رہا ہےجبکہ من کنسلٹ ایس ڈی این بی ایچ ڈی اور کری ایٹو انجینئرنگ کنسلٹنٹس (جوائنٹ وینچر)نگرانی کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سرکاری منصوبے کے مطابق 474.2 کلومیٹر سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی، 324.4 کلومیٹر دیہی رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور بحالی جبکہ 182.3 کلومیٹر سیاحتی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے جس سے منصوبے کے تحت سڑکوں کی مجموعی لمبائی 980.9 کلومیٹر ہو جائے گی،اس کے علاوہ دور دراز اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ بہتر بنانے کے لیے 34 پل بھی تعمیر کیے جائیں گے۔دستاویزات کے مطابق ضلع وار تقسیم میں ڈیرہ اسماعیل خان کو سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی کے لیے سب سے بڑا حصہ دیا گیا ہے جہاں 207.5 کلومیٹر سڑکوں کی بحالی ہوگی،اسی طرح چترال کو مجموعی طور پر سب سے زیادہ 192.1 کلومیٹر سڑکوں کا حصہ ملا ہے جس میں 153 کلومیٹر سیلاب سے متاثرہ سڑکیں، 22 کلومیٹر دیہی رابطہ سڑکیں اور 17.1 کلومیٹر سیاحتی سڑکیں شامل ہیں۔

منصوبے میں شامل دیگر اضلاع میں کرک، کوہاٹ، بنوں، ملاکنڈ، چارسدہ، بونیر، صوابی، لوئر دیر، اپر دیر، سوات، شانگلہ، اپر و لوئر کوہستان، بٹگرام، ہری پور، مانسہرہ اور تورغر شامل ہیں ۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے کے اخراجات میں سے 100 ارب 86 کروڑ روپے سول ورکس کے لیے مختص کیے گئے ہیں جن میں سڑکوں کی بحالی، سیاحتی رسائی کی سڑکیں، پلوں کی تعمیر، یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی اور دیگر ہنگامی اخراجات شامل ہیں۔اس کے علاوہ 3 ارب 78 کروڑ روپے مشاورتی خدمات کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 81 کروڑ 30 لاکھ روپے منصوبے کے انتظام، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور باغبانی سے متعلق سرگرمیوں پر خرچ کیے جائیں گے۔عمل درآمد کے شیڈول کے مطابق یہ منصوبہ نومبر 2029 تک جاری رہے گا۔