خیبرپختونخوا کے جوڈیشل وفد کا سپریم کورٹ پبلک فسیلیٹیشن سینٹر کا دورہ، ماڈل کے نفاذ میں دلچسپی
خیبرپختونخوا کے جوڈیشل وفد کا سپریم کورٹ پبلک فسیلیٹیشن سینٹر کا دورہ، ماڈل کے نفاذ میں دلچسپی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے ایک وفد نے سپریم کورٹ کے پبلک فسیلیٹیشن سینٹر (پی ایف سی ) کا دورہ کیا اور شہریوں پر مبنی عدالتی خدمات کے جدید ماڈل کا تفصیلی جائزہ لیا۔وفد میں مردان، سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ، ایبٹ آباد اور پشاور کے ججز شامل تھے جبکہ وفد کی قیادت پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے کی۔
اس موقع پر وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی سے بھی ملاقات کی اور عدالتی اصلاحات، عوامی سہولت کاری اور عدالتی نظام کی جدید کاری پر تبادلہ خیال کیا۔پبلک فسیلیٹیشن سینٹر کے دورے کے دوران وفد کو ون ونڈو سروس کے تحت فراہم کی جانے والی سہولیات پر بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ اس مرکز کا مقصد عدالتی خدمات تک رسائی کو آسان بنانا، شفافیت میں اضافہ اور خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ سینٹر میں مقدمات کے اندراج کی رہنمائی، کیس اسٹیٹس کی معلومات، مصدقہ نقول کے حصول میں معاونت، وکلا اور سائلین کے لئے رہنمائی خدمات، ڈیجیٹل انفارمیشن کاؤنٹرز، ای فائلنگ سہولیات، آن لائن اور ای پیمنٹ نظام، اور شکایات و فیڈبیک کے مربوط نظام سمیت متعدد سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر شہریوں پر مبنی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل حل اپناتے ہوئے عوامی خدمات میں بہتری لانی چاہئے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ جاری اصلاحاتی اقدامات کا بنیادی مقصد سائلین کی سہولت، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری اور انصاف تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔وفد کے اراکین نے پبلک فسیلیٹیشن سینٹر کو ایک مثالی ماڈل قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کی ضلعی عدلیہ میں بھی اسی نوعیت کے سہولت مراکز قائم کرنے پر غور کیا جائے گا۔ملاقات میں بہترین عملی تجربات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ ملک بھر میں عدالتی خدمات کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔







