معاشی استحکام کی وجہ سے آئندہ مالی سال کیلئے نموپرمبنی وفاقی بجٹ پیش کیا گیا،زراعت،برآمدکنندگان،صنعتوں،کاروبار اورتنخواہ دارطبقہ کیلئے ریلیف اقدامات سے ملکی معیشت کوفائدہ پہنچے گا،مشیرخزانہ خرم شہزادکا فیوچرآف فنانس سمٹ سے خطاب

معاشی استحکام کی وجہ سے آئندہ مالی سال کیلئے نموپرمبنی وفاقی بجٹ پیش کیا گیا،زراعت،برآمدکنندگان،صنعتوں،کاروبار اورتنخواہ دارطبقہ کیلئے ریلیف اقدامات سے ملکی معیشت کوفائدہ پہنچے گا،مشیرخزانہ خرم شہزادکا فیوچرآف فنانس سمٹ سے خطاب

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ معاشی استحکام کی وجہ سے حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے نموپرمبنی وفاقی بجٹ پیش کیاہے،زراعت،برآمدکنندگان،صنعتوں،کاروبار اورتنخواہ طبقہ کیلئے ریلیف اقدامات سے مجموعی طورپرملکی معیشت کوفائدہ پہنچے گا۔منگل کویہاں فیوچرآف فنانس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مشیرخزانہ نے کہاکہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیاہے،برآمدات پرسپرٹیکس مکمل طورپرختم کردیاگیاہے،برآمدات کے مجموعی ٹرن اوورپرٹیکس آدھا کردیاگیاہے،برآمدات کیلئے قرضوں ومالیات پرشرح سود 12فیصدسے کم کرکے 4.5فیصد کردی گئی ہے،توانائی پرمراعات دئیے بھی جارہے ہیں اوراس میں اضافہ کامنصوبہ بھی ہے،توانائی کی اضافی کھپت پرقیمت میں کمی ہوگی، ان اقدامات سے برآمدات پرمبنی ترقی ونموکے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

مشیرخزانہ نے کہاکہ جن کاروباروں کی آمدن 15سے لیکر50کروڑروپے تک ہے ان پر10فیصدسپرٹیکس ختم کردیاگیاہے،50کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی والوں کیلئے سپرٹیکس کی شرح10فیصد سے کم کرکے 8فیصدکردی گئی ہے،اسی طرح زراعت کے شعبہ کی ترقی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں، زراعت کیلئے فنڈنگ سے لیکرامپورٹ تک پرڈیوٹیاں ختم کردی گئی ہے،اسی طرح تعمیراتی شعبہ کوبھی ٹیکسوں میں سہولت فراہم کی گئی ہے،صنعتوں کی ترقی اورنمو اورتنخواہ دارطبقہ کوریلیف دینے کیلئے بھی کئی اقدامات کئے گئے ہیں،ان بڑے اقدامات سے مجموعی طورپرملکی معیشت کوفائدہ پہنچے گا۔خرم شہزادنے کہاکہ جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح میں کمی ہوئی ہے،2022ء میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرضو ںکاحجم 74فیصدتھاوہ آج 68.5فیصدہے،پاکستان نے5ٹریلین روپے کاقرضہ وقت سے پہلے واپس کیاہے یا کم لاگت سے اس کاتبادلہ کیاگیا،پانڈابانڈکوڈھائی فیصدکی شرح سے جاری کیاگیا۔

انہوں نے کہاکہ ترسیلات زرمیں نمایاں اضافہ ہواہے،مئی میں 3.4ارب ڈالرکی ترسیلات زرریکارڈکی گئی ہے،روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے زریعہ بھی ترسیلات زرمیں اضافہ ہورہاہے،زرمبادلہ کے ذخائر4برس کی بلندترین سطح پرہے،درآمدات کیلئے تین ماہ کی ادائیگیوں کی سہولت موجود ہے،اس سے معیشت کے استحکام کی عکاسی ہورہی ہے۔2022ء میں مالی خسارہ 8فیصدتھا جوآج 0.7فیصدہے،ان اقدامات سے معیشت کوہونے والے جھٹکوں کوبرداشت کرنے کی استعدادمیں اضافہ ہوتاہے، یہی وجہ ہے کہ حالیہ بحران اورگزشتہ سال سیلاب کے باوجود پاکستان نے اپنے وسائل سے ان جھٹکوں کوبرداشت کیا، معاشی استحکام کی وجہ سے پاکستان نے نموپرمبنی بجٹ پیش کیاہے۔

مشیرخزانہ نے کہاکہ ٹیکسوں کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی اوراس کیلئے منصوبہ بندی کی گئی ہے،امریکا ایران امن معاہدے سے ہماری مشکلات بالخصوص مہنگائی میں کمی آنے کی امید ہے ، مشکل حالات کے باوجود پاکستان لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں نموریکارڈکی گئی ہے،اس کاجی ڈی پی میں حصہ 20فیصدکے قریب ہے۔

خرم شہزادنے کہاکہ ٹیکس سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کاعمل جاری ہے ، اصلاحات کے نتائج فوری طورپرسامنے نہیں آتے بلکہ اس میں وقت لگتاہے،اچھی بات یہ ہے کہ سمت کاتعین کردیاگیاہے ، ہماری استعدادبھی ہے اورہماراعزم بھی موجود ہے،مجھے پوری امید ہے کہ پالیسیوں کے تسلسل سے پاکستان آئندہ دوتین سالوں میں بہت بہترہوجائیگا۔