سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم کے دائرے میں شامل کرنے کی سفارش

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم کے دائرے میں شامل کرنے کی سفارش

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم کے دائرے میں شامل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے برآمدات پر مبنی ترقی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے ٹیکس نظام کو مزید معقول اور موثر بنانے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کااجلاس منگل کوبھی جاری رہا، اجلاس کی صدارت چئیرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی ،اجلاس میں مالیاتی بل 2026-27 پر غور و خوض کیاگیا ۔

اجلاس میں مالیاتی، تجارتی، صنعتی اور ٹیکس سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا جن کا مقصد اقتصادی ترقی کو مضبوط بنانا، برآمدات کو فروغ دینا اور عوامی خدشات کا ازالہ کرنا تھا۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ان کے علاوہ سینیٹرز، سرکاری حکام، صنعتوں کے نمائندے اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شراکت دار بھی موجود تھے۔ اجلاس میں بجٹ سے متعلق اہم تجاویز، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ، مسابقتی صلاحیت میں اضافے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

کمیٹی نے برآمدات کے فروغ سے متعلق امور کا جائزہ لیا اور کاروباری برادری اور متعلقہ سرکاری اداروں کے نمائندوں سے بریفنگ حاصل کی۔ شرکا نے برآمد کنندگان کے لیے سہولتوں، کاروباری ماحول میں بہتری اور ملکی برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم کے دائرے میں شامل کیا جائے اور برآمدات پر مبنی ترقی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے ٹیکس نظام کو مزید معقول اور موثر بنایا جائے،اجلاس میں تعلیم اور فلاحی اداروں سے متعلق ٹیکس اقدامات کا بھی جائزہ لیاگیا، ارکان نے تعلیمی سہولیات تک رسائی بڑھانے اور موجودہ ٹیکس استثنی ٰکے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینے سے متعلق تجاویز پر غور کیا۔

متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد کمیٹی نے متعلقہ قانونی شقوں میں ترامیم کی سفارش کی تاکہ شفافیت، موثریت اور عوامی مفاد سے ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے کمیٹی کو قومی ٹیرف پالیسی 2025-2030 کے بارے میں بریفنگ دی اور حکومت کی اس حکمت عملی سے آگاہ کیا جس کا مقصد صنعتی مسابقت کو بڑھانا، تجارت کو آسان بنانا اور طویل المدتی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

اس پالیسی کے تحت ٹیرف کے ڈھانچے کو بتدریج معقول بنایا جائے گا، ڈیوٹیوں کو سادہ اور منظم کیا جائے گا اور مقامی صنعت کے لیے زیادہ مسابقتی ماحول پیدا کیا جائے گا جبکہ برآمدات اور سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ کمیٹی نے پالیسی کی مجموعی سمت کا خیرمقدم کیا اور کاروباری برادری کے لیے متوازن اور قابل پیش گوئی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔کمیٹی نے بجلی کے بلوں سے متعلق مسائل کا بھی جائزہ لیا اور فکسڈ چارجز کے حوالے سے عوامی خدشات پر غور کیا۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ایک جانب صارفین کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور دوسری جانب توانائی کے شعبے کی پائیداری بھی برقرار رکھی جائے۔

اس سلسلے میں کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام سے تفصیلی بریفنگ لی جائے گی۔اجلاس میں گاڑیوں کے معیارات، صنعتی ضوابط اور تجارتی گاڑیوں کی درآمدات سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے آگاہ کیا کہ ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانے، حفاظتی معیارات کو بہتر کرنے اور قومی طریقہ کار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ کمیٹی نے کاروباری سرگرمیوں میں سہولت، شفافیت کے فروغ اور ضوابط کے موثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔

کمیٹی کو شمسی توانائی، موبائل، آٹو موبائل اور بیٹری کے شعبوں سے متعلق پالیسیوں پر جاری کام کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے فروغ، تکنیکی ترقی کی حوصلہ افزائی، مقامی صنعت کے فروغ اور نئے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع پالیسی فریم ورک تیار کیے جا رہے ہیں۔مالیاتی بل 2026-27 کے تحت مختلف تجاویز اور ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متعدد سفارشات پیش کیں جن کا مقصد اقتصادی ترقی کو فروغ دینا، کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانا، صنعتی مسابقت کو مضبوط کرنا اور عوامی فلاح و بہبود میں اضافہ کرنا ہے۔