پنجاب حکومت کا امن و امان کے قیام وجرائم کے خاتمے کیلئے جامع منصوبہ، 252 ارب روپے مختص

پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 252 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے

لاہور۔16جون (اے پی پی):پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 252 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبے میں امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے موثر اور فیصلہ کن اقدامات کیے جا رہے ہیں،جدید ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط کارروائیوں کے ذریعے ریاستی رٹ کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جو محفوظ پنجاب ویژن پر عملدرآمد کا عملی مظہر ہے۔اسی طرح صوبائی حکومت کی جانب سے اسمارٹ سیف سٹیز پراجیکٹ، سی ایم تحصیل اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے، ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور پنجاب پولیس انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم (PPIC3) کے قیام کے لیے مجموعی طور پر 47 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے منصوبے جاری ہیں،ان منصوبوں کے تحت جدید کیمروں، ڈیٹا اینالیٹکس اور فوری ردعمل کے مربوط نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے، ان اقدامات سے پنجاب کے 19 اضلاع اور بڑی تحصیلوں سمیت صوبے کی بڑی آبادی مستفید ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے داخلی سلامتی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی پیکیج کے تحت محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی آپریشنل استعداد بڑھانے کے لیے بکتر بند گاڑیاں، جدید نگرانی کے آلات، اینٹی ڈرون سسٹمز، جدید اسلحہ اور حفاظتی سامان فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرح دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے تدارک کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی پیشگوئیاتی تجزیاتی نظام (AI-Based Predictive Analytics Systems) اور کائونٹر نیریٹو اینڈ کاگنیٹو سکیورٹی ونگ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔پولیس فورس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 20 جدید بکتر بند محافظ گاڑیوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ شفاف پولیسنگ کے فروغ کے لیے تمام تھانوں، پولیس چوکیوں اور پنجاب ہائی وے پٹرولنگ یونٹس میں پینک بٹن، باڈی کیمرے اور ڈیجیٹل شواہد ریکارڈنگ سسٹم نصب کیے جائیں گے جبکہ ٹریفک پولیس کو 6 ہزار باڈی کیمرے فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔اسی طرح اسپیشل برانچ اور دیگر سکیورٹی اداروں کے لیے جدید ڈرونز، جی ایس ایم لوکیٹرز، ڈرون جیمرز، تھرمل امیجنگ سسٹمز اور نائٹ ویژن گاگلز فراہم کیے جائیں گے۔ مزید برآں کائونٹر نارکوٹکس فورس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے لیے اسلحہ، ایمونیشن، یونیفارمز اور پولیس گاڑیوں کی بحالی و اپ گریڈیشن کے لیے بھی خطیر وسائل مختص کیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیرخزانہ نے کہاکہ بجٹ میں 2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے مختلف علاقوں میں نئے پولیس اسٹیشنز، پولیس پوسٹس اور پولیس پکٹوں کی تعمیر کی تجویز بھی شامل ہے۔علاوہ ازیں 14 ارب 21 لاکھ روپے کی لاگت سے پنجاب کے 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں، یہ یونٹس جرائم کے شواہد کے سائنسی حصول، پیکنگ، تحفظ، ذخیرہ اور منتقلی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائیں گے، جس سے تفتیشی نظام مزید موثر اور جدید ہوگا۔

 

مزید خبریں