وزارت صنعت و پیداوار نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں فیصل واوڈا کے الزامات مستردکر دیئے، دستاویزی شواہد پیش

وزارت صنعت و پیداوار نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں فیصل واوڈا کے الزامات مستردکر دیئے، دستاویزی شواہد پیش

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزارت کا مؤقف واضح کرنے کے لیے دستاویزی شواہد پیش کر دیے۔ ہارون اختر خان اور سیکرٹری صنعت و پیداوار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزارت کی جانب سے کئے گئے تمام فیصلے اور اقدامات قواعد و ضوابط کے مطابق اور تمام متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت کے تمام فیصلے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کئے گئے اور اس عمل میں تمام قانونی اور ادارہ جاتی تقاضوں کو مکمل طور پر پورا کیا گیا۔ ہارون اختر خان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان کی جانب سے 2020 میں اقوام متحدہ کے ڈبلیو پی 29 معاہدے پر دستخط کے بعد گاڑیوں کے حفاظتی معیار اور متعلقہ قوانین مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت صنعت و پیداوار کو سونپی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موٹر وہیکل ڈویلپمنٹ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے جبکہ قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی بھی اس کی منظوری دے چکی ہے۔

بل کی منظوری کے بعد گاڑیوں کے حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کا اختیار انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو منتقل کر دیا جائے گا۔معاون خصوصی نے بتایا کہ وزارت تجارت نے ستمبر 2025 میں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو درآمد شدہ نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کے معیار اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں رہائشی منتقلی، گفٹ اسکیم اور پرسنل بیگیج اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد کا وسیع پیمانے پر غلط استعمال کیا گیا جس سے شفافیت اور قواعد پر عملدرآمد کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے۔

اس غلط استعمال کی روک تھام کے لیے نئی شرائط متعارف کرائی گئیں اور اب گفٹ اسکیم اور چینج آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد صرف مخصوص شرائط کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔

ہارون اختر خان نے زور دیا کہ گاڑیوں کے معیار اور حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد سے سڑک حادثات میں کمی لانے اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں مدد ملے گی، کیونکہ پاکستان میں سڑک حادثات کے باعث سالانہ تقریباً 25 ہزار اموات ہوتی ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصل واوڈا کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات کو دستاویزی شواہد کے ساتھ مسترد کیا گیا جبکہ واضح کیا گیا کہ فیصل واوڈا اپنے الزامات کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔وزارت صنعت و پیداوار نے شفافیت، قواعد و ضوابط پر عملدرآمد اور تمام متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے پالیسیوں کے نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا۔a

مزید خبریں