پاکستان نے خطے کو بڑی جنگ سے بچایا، بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا ہے،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نے دی جاسکتی،اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
پاکستان نے خطے کو بڑی جنگ سے بچایا، بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا ہے،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نے دی جاسکتی،اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار

مزید خبریں
راولپنڈی ۔16جون (اے پی پی):اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ پاکستان بالخصوص آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے کو ایک ایسی بڑی جنگ سے بچایا جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے تھے،مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامی کو چھپانے کی غرض سے بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا ہے،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نے دی جاسکتی۔ملک بھر میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنےو الے اداروں نے دہشت گردی کی سرکوبی کے لئے مجموعی طور پر رواں سال 32092 آپریشنز کئے ہیں،افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پنپنے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں ۔
ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار اور میڈیا کے درمیان ہونے والی اہم نشست میں سیکیورٹی سے متعلق اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسلام آبادامن معاہدہ سے متعلق بتایا گیا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے ثالثی کے محرکات کسی محدود مفاد پر مبنی نہیں بلکہ خطے میں استحکام اور امتِ مسلمہ کے درمیان امن کے فروغ سے متعلق ہیں۔تمام اہم فریقین سے مشاورت اور تعاون کے ذریعے پاکستان بالخصوص آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے کو ایک ایسی بڑی جنگ سے بچایا جو مسلط کیے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی اور جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔یہ ایک ایسی جنگ تھی جسے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خلوص، پیشہ ورانہ مہارت، غیر معمولی صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے انسانیت کے وسیع تر مفاد میں بغیر لڑے جیت لی اور یہی اعلیٰ ترین حکمتِ عملی کا مظہر ہے۔اس حساس سفارتی عمل کے لیے انتہائی رازداری، ذمہ داری اور احتیاط درکارہے۔
ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر پاکستان کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا مذاکرات کے مندرجات، نوعیت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی جائیں گی۔امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مختلف عناصر اور مخالفین اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاہم پاکستان اپنے شراکت داروں کے ساتھ بھرپور خلوص کے ساتھ امن کے قیام کی کوششیں جاری رکھے گا۔مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب کو اس سلسلے میں بھرپور کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے دانشمندانہ قیادت، تحمل اور اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بصیرت کے ساتھ مل کر ایسی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی تھی اور مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر سکتی تھی۔کسی بھی دوست ملک کے ساتھ عسکری سفارت کاری اور تعلقات کو محض ایک محدود زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے قومی مفادات پر مبنی وسیع تر سفارتی دائرہ کار کا حصہ ہوتے ہیں۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق 1948 میں لڑی جانے والی جنگ پاکستانی فوج، کشمیریوں اور قبائل نے مل کر لڑی، کشمیر پر اب تک 5 جنگیں ہوچکی ہیں، کشمیر بنے گا پاکستان اور ہم پاکستانی ہیں ،پاکستان ہمارا ہے جیسے نعرے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے موقف کے غماز ہیں۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ترقی اور سبسڈی مقبوضہ کشمیر کے غیور مسلمانوں کے جذبات کو نہیں خرید سکتی ہے،آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور قانونی رخنے وہاں کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کو ختم نہیں کرسکتے،اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب بڑی فوجی چھاؤنی ہے، وادی کے لوگ اضطراب کا شکار ہیں لیکن وہ اب بھی پوری طرح تیار اور یکسو ہیں کہ کشمیر کا حل بھارت کے پاس نہیں ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامی کو چھپانے کی غرض سے بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا ہے، نام نہاد حقوق کی تحریک کے پیچھے مذموم مقاصد اور اس کا اصل چہرہ اب عیاں ہوچکا ہے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی قیادت کی اولین ترجیح ہمیشہ بات چیت اور مذاکرات ہوتے ہیں، دو سال سے کشمیر میں مذاکرات کئے گئے جو سہولیات مانگی دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی حکومت جمہوری ہے ، جو کسی بھی مسئلہ کو سب سے پہلے مذاکرات اور بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی شروع میں عوامی مسائل کو لے کر نکلی، ریاست نے ا س وقت بھی ان میں چھپے عناصر کو بھانپ لیا تھا اور جانتے تھے کہ یہ بعد ازاں بے نقاب ہو جائیں گے،مظاہرین میں چُھپے کئی کردار اور ان کے اصل مقاصد کُھل کر سامنے آچکے ہیں اور اُن سے قانون کے مطابق ہی نمٹا جائے گا۔ حکومت آزاد جموں وکشمیر نے جمہوری اور مصلحت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو تمام مراحل میں ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے ان تمام اقدامات کے برعکس اپنی فطرت کے مطابق تشدد اور جلاؤ گھیراو کا راستہ اپنایا اور عوام کو نفرت انگیز اور اشتعال انگیز اقدامات کی طرف راغب کیا، اس سلسلے میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے کو بھی پس پشت ڈالتے ہوئے تشدد کی راہ ترک نہیں کی اور مسلسل ریاست مخالف جذبات کو ابھارا، 12 سیٹیں آئین اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے منسلک ہیں اور کوئی بھی جتھہ یا مسلح گروہ زور کی بنیاد پر اپنا فیصلہ نہیں منوا سکتا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ریاست کو کسی قسم کا ابہام نہیں کہ تشدد اور انتشار کا راستہ اختیار کرنے والوں کو کیسے نمٹا جائے گا، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نے دی جاسکتی،
اگر کوئی نام نہاد حقوق کی جنگ کی آڑ میں بیرونی ایجنڈے پر ریاستی رٹ کو چیلنج کرے گا تو قانون اپنی راہ اختیار کرنے میں حق بجانب ہوگا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق دورِ حاضر میں افغانستان اور دہشت گردی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں،ملک بھر میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنےو الے اداروں نے دہشت گردی کی سرکوبی کے لئے مجموعی طور پر رواں سال 32092 آپریشنز کئے ۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور تعاون سے دہشت گردی کے 2170 واقعات ہوئے جس میں 1861 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور ارض پاک کے 640 بہادر سپوتوں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔ انسدادِ دہشت گردی کی اس جنگ کے اعداد و شمار اس امر کے عکاس ہیں کہ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پنپنے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کس طرح پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں ،افغانستان کے ساتھ ہمارا سفارتی رابطہ مکمل طور پر شفاف، باضابطہ اور ہمارے اس بنیادی مطالبے پر مبنی ہے کہ دہشت گردی کی سرپرستی فوری بند کی جائے،
افغانستان کی حدود میں کئے جانے والے تمام فضائی و عسکری حملے انتہا ئی درستگی اور ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کئے گئے، طالبان رجیم انسانی حقوق کے لئے کسی قسم کے قابل احترام جذبات سے عاری ہے اور ان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کا کوئی احترام نہیں ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہائیوں پر محیط مسلسل رابطوں کے بعد پاکستان بالآخر اس حتمی نتیجے پر پہنچا ہے کہ طالبان رجیم اسلام کی مسخ شدہ تشریح کے نفاذ کے حامی ہیں، طالبان رجیم کا غیر ذمہ دارانہ اور پرتشدد رویہ کسی بھی قسم کے سفارتی یا باہمی رابطے کے امکان کو رد کرتا ہے ۔ پاکستان نے 2021 سے لے کر 2025 تک چار سال موجودہ افغان رجیم سے کثیر الجہتی مذاکرات کئے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان افغانستان سے مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے کرنے کا خواہاں رہا ہے
، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے کیا گیا مطالبہ دہشت گردوں کی سہولت کار ، پناہ اور سرپرستی ختم کرنا ہے ، افغان طالبان رجیم نے دہشت گردی کی سرپرستی اور افغان سر زمین کا دہشت گردی کے لئے استعمال روکنے میں ہمیشہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندستان (بی ایل اے) خالصتاً ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کی سرپرستی بھارت اور اس کے علاوہ کچھ یورپی عناصر کر رہے ہیں، پاکستان دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں، ریاست مخالف بیانیے کی تشکیل اور ترویج بھارت سمیت دیگر پاکستان دشمن عناصر کی طرف سے کی جا رہی ہے،
نام نہاد بیانیہ کی جنگ سوشل میڈیا تک محدود ہے اور یہ زمینی حقائق کے برعکس ہے ۔ 32 ہزار کلو میٹر پر محیط سڑکیں اور ہائی ویز پر روزانہ 18 ہزار سے زائد گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے ، یہ دہشت گرد بلوچستان کی وسعت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکا دکا گاڑیوں کو نشانہ بنا کر سوشل میڈیا اور کچھ بیرونی میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے حالات کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔دہشت گردوں کے سہولت کار اور بیرون ملک بیٹھے ہینڈلرز ایک منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت ان ویڈیوز کو استعمال کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا حصہ بنتے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان اور اس کے سرپرستوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے خواتین کو استعمال کرنے کی مذموم حکمت عملی اپنائی ہے ، یہ مکروہ حکمت عملی اسلام اور بلوچ روایات سے متصادم ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے طول و ارض میں فتنہ الہندوستان کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے ،
ضلعی سطح پر فنڈز کی شفاف تقسیم اور منصوبوں کے درست انتخاب، بروقت عملدرآمد کے ذریعے حکومتِ بلوچستان بہترین نتائج پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہے، ریکوڈک اور کان کنی کے دیگر منصوبے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ایک اہم سنگ میل ہے ، ان سے حاصل ہونے والے فوائد اور بلوچستان کو ملنے والی رائلٹی صوبے کی ترقی میں خاص اہمیت کے حامل ہیں، کسی بھی علاقے سے نکلنے والی معدنیات کی کھپت اُس علاقے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کو ایکسپورٹ اور پروسیسنگ کے ذریعے ترقی کا ذریعہ بنایا جاتا ہے اور فوائد عوام کو حاصل ہوتے ہیں ، بلوچستان کی ترقی میں پاکستان کی ترقی ہے۔24 اپریل 2025 کے قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اعلامیے کو شرکاء کے سامنے پڑھ کر سنایا گیا۔ اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پانی پاکستان کا قومی مفاد ہے اور قومی طاقت کے تمام ذرائع سے ہر قیمت پر اس کا تحفظ کیا جائے گا۔
پاکستان کی معیشت، سماجی ڈھانچہ، زراعت اور غذائی تحفظ کا گہرا تعلق پانی سے ہے، لہٰذا اس کے تحفظ کے لیے جو اقدامات ضروری ہوں گے اور جب ضروری ہوں گے، وہ کیے جائیں گے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اگرچہ پاکستان کی عسکری صلاحیت، عزم اور جواب دینے کی استعداد پر کوئی شک نہیں، تاہم پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف ایک انتہائی مؤثر قانونی اور سفارتی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بہتر آبی انتظام اور پانی کے تحفظ کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ عسکری سطح پر جو بھی اقدامات کیے جائیں، ملک کو مزید آبی ذخائر، نہری نظام کی توسیع اور مضبوط ریگولیٹری ڈھانچے کی جانب بڑھنا ہوگا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پانی کے معاملے پر بھارت کی بیان بازی دراصل اس کی داخلی سیاسی مجبوریوں کا نتیجہ ہے تاکہ پاکستان کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ قائم رکھا جا سکے۔بھارت معرکۂ حق میں عسکری طور پر ناکام رہا، اس کے بعد سفارتی محاذ پر بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا، جبکہ اس کا خود ساختہ "وشوا گرو” کا تصور اب اندرونِ ملک بھی سوالات کی زد میں ہے۔ اسی لیے پانی کے معاملے پر بیان بازی اس کے 90 ارب ڈالر سے زائد دفاعی بجٹ کے جواز اور سیاسی ساکھ بچانے کی کوشش ہے۔بھارت ایک ایسا ملک ہے جو عظمت سے محروم ہے اورتاریخ کے بغیر تاریخی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔







