قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کااجلاس، کسٹمز سرٹیفکیٹس کی خلاف ورزی پر ٹرمینل آپریٹرز کے جرمانے کی رقم ایک کروڑ روپے کے بجائے 50 لاکھ روپے مقررکرنے کی سفارش
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کااجلاس، کسٹمز سرٹیفکیٹس کی خلاف ورزی پر ٹرمینل آپریٹرز کے جرمانے کی رقم ایک کروڑ روپے کے بجائے 50 لاکھ روپے مقررکرنے کی سفارش

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے ڈیمریج چارجز سے استثنی کے لیے جاری کردہ کسٹمز سرٹیفکیٹس کی خلاف ورزی پر ٹرمینل آپریٹرز کے جرمانے کی رقم ایک کروڑ روپے کے بجائے 50 لاکھ روپے مقررکرنے کی سفارش کی ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس منگل کویہاں پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمرکی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مالیاتی بل 2026 کی شق وار جانچ پڑتال کا عمل جاری رکھا گیا۔ کمیٹی نے کسٹمز اور سیلز ٹیکس قوانین، ٹیکس انتظامی اصلاحات، جرمانوں کے نظام، نفاذی طریقہ کار، ٹیکس قوانین کی تعمیل میں بہتری اور تنازعات کے موثر حل سے متعلق مختلف مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیا۔کمیٹی نے متعدد اصلاحاتی تجاویز پر غور کیا جن میں ٹیکس دہندگان اور ٹیکس حکام کے درمیان براہ راست رابطے کو کم سے کم کرنے کے لیے فیس لیس ایڈجوڈیکیشن اور فیس لیس اپیلز ( کا نظام متعارف کرانے کی تجویز شامل تھی۔ اس کے علاوہ ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے الگورتھم پر مبنی تصفیہ جاتی طریقہ کار اور پیداواری نگرانی کے نظام کو چار شعبوں سے بڑھا کر انیس شعبوں تک توسیع دینے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
نگرانی کے لیے مجوزہ شعبوں میں ٹیکسٹائل، مشروبات، پیک شدہ دودھ، جوسز، ٹائلز، پولٹری، ٹائرز، سٹیل، تیل، الیکٹرانکس، ادویات سازی، چمڑے کی صنعت، آٹوموبائل اور کاغذ کی مصنوعات شامل ہیں۔کمیٹی نے ٹیئرون ریٹیلرز کی تعریف میں ترمیم سے متعلق تجویز کا بھی جائزہ لیا جس کے تحت ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ مشینوں کی موجودگی کی شرط ختم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل ٹیکس تعمیل کرنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے انعامی بنیادوں پر ٹیکس وصولی کے نظام اور آزادانہ سکروٹنی کمیٹی کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ مجوزہ کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کے سپرد کی جائے گی جو یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا کسی ٹیکس مقدمے کو مزید قانونی کارروائی کے لیے آگے بڑھایا جانا چاہیے یا نہیں۔ کمیٹی نے ڈیمریج چارجز سے استثنی کے لیے جاری کردہ کسٹمز سرٹیفکیٹس کی خلاف ورزی پر ٹرمینل آپریٹرز کے جرمانے کو 50لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز پر بھی تفصیلی غور کیا۔
کمیٹی کے اراکین نے مجوزہ اضافے کی شدت پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بھاری جرمانہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی، کاروباری غیر یقینی صورتحال میں اضافے اور اختیاری یا امتیازی نفاذ کے امکانات کو جنم دے سکتا ہے۔ تناسب اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے سفارش کی کہ جرمانے کی رقم ایک کروڑ روپے کے بجائے 50 لاکھ روپے مقرر کی جائے۔ ساتھ ہی درآمد کنندگان اور ٹرمینل آپریٹرز دونوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے تنازعات کے فیصلے کی غرض سے ایک غیرجانبدار فورم یا کمیٹی قائم کی جائے۔اجلاس میں کسٹمز نیلامیوں کو تیسرے فریق کے ذریعے آئوٹ سورس کرنے کی تجویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس اقدام کا مقصد بندرگاہوں پر جمع شدہ سامان کی بروقت فروخت اور رش میں کمی لانا ہے۔
اگرچہ اراکین نے انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کی ضرورت کو تسلیم کیا تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ شفافیت، مسابقت اور جوابدہی کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام آئوٹ سورسنگ انتظامات پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے مطابق ہوں اور نیلامی کرنے والی کمپنیوں کے لیے پیشگی اہلیت کے معیار بھی مقرر کیے جائیں تاکہ عمل کی شفافیت اور ساکھ برقرار رہے۔کمیٹی نے اس تجویز پر بھی غور کیا جس کے تحت کسٹمز حکام کو یہ اختیار دیا جانا تھا کہ وہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ضبط شدہ، لیکن ڈیوٹی ادا نہ کیے گئے سامان کو فوجداری کارروائی مکمل ہونے سے قبل ہی اپنی تحویل میں لے سکیں۔ کمیٹی نے اس تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جاری تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں اور انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے رائے دی کہ اس تجویز کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے اور ہدایت کی کہ مناسب حفاظتی اقدامات شامل کیے جائیں جن میں یہ شرط بھی شامل ہو کہ نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جانے والا سامان قابل سراغ رہے اور ضرورت پڑنے پر عدالتی کارروائی کے لیے دستیاب ہو۔مجوزہ ریٹیلر سکیم پر گفتگو کے دوران اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے عملی طریقہ کار، نفاذی تحفظات، تکنیکی ڈھانچے اور تعمیلی نظام کو مکمل طور پر سمجھے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی نے آئندہ اجلاس سے قبل تفصیلی پریزنٹیشن کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے جامع بریفنگ کے لیے خصوصی وقت مختص کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اراکین کمیٹی نے ایڈوانس ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور کم از کم ٹیکس کے نظام پر مسلسل انحصار کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومتی محصولات کا ایک بڑا حصہ حقیقی آمدنی اور منافع کی بنیاد پر تشخیص کے بجائے پیشگی ٹیکس وصولی پر منحصر ہوتا جا رہا ہے۔ اراکین کے مطابق یہ طریقہ کار کاروباری اداروں اور ٹیکس دہندگان، خصوصا کم منافع پر کام کرنے والوں یا مالی مشکلات سے دوچار افراد پر غیر ضروری بوجھ ڈالتا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مالیاتی بل کے جاری جائزے کے دوران ان امور کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ ایک زیادہ منصفانہ، شفاف اور اقتصادی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکس نظام تشکیل دیا جا سکے۔کمیٹی نے 15 جون 2026ء کو منعقدہ اپنے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق بھی کر دی۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی رانا ارادت شریف خان، علی زاہد، بلال فاروق تارڑ، محمد عثمان اویسی، زیب جعفر، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، حنا ربانی کھر، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد جاوید حنیف خان، ارشد عبداللہ ووہرا اور شاہدہ بیگم نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹرمحمداورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہرکیانی، سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال اور وزارت خزانہ و محصولات کے سینئر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔







