سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اعلیٰ تعلیم، سکول کی سطح تک کی تعلیم، فنی تربیت اور خصوصی تعلیم سے متعلق مختلف اہم امور کا جائزہ لیا گیا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا اجلاس، اقراء گلوبل یونیورسٹی بل 2026 منظور

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اعلیٰ تعلیم، سکول کی سطح تک کی تعلیم، فنی تربیت اور خصوصی تعلیم سے متعلق مختلف اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر راحت جمالی، سینیٹر سید مسرور احسن اور سینیٹر خالدہ عطیب نے شرکت کی جبکہ سینیٹر جان محمد اور سینیٹر رانا محمود الحسن بھی ایجنڈا آئٹمز کے محرکین کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ کمیٹی نے ’’اقراء گلوبل یونیورسٹی بل 2026‘‘ پر غور کیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے بل پر بعض اعتراضات اٹھاتے ہوئے سفارش کی کہ مجوزہ قانون سازی کو ایچ ای سی کی نشاندہی کردہ خامیوں کے ازالے کے بعد نائب وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بل کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایچ ای سی کی تمام شرائط اور تقاضے نظرثانی شدہ طریقہ کار کے مطابق پورے کئے جائیں۔ اجلاس میں اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں میں مستحق طلبہ کے لئے مفت تعلیم کے لازمی 10 فیصد کوٹے پر عملدرآمد نہ ہونے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے پاس نگرانی کا نظام موجود ہے تاہم متعدد سکولوں سے مطلوبہ معلومات تاحال موصول نہیں ہو سکیں۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ اہلیت کے معیار میں رجسٹرڈ آؤٹ آف سکول بچوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے نامکمل اعداد و شمار اور کمزور عملدرآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو کوٹے کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کوٹے پر بہتر عملدرآمد کرنے والے سکولوں کے لئے تعریفی اسناد سمیت مراعات متعارف کرانے کی تجویز بھی دی۔کمیٹی نے بعض جامعات کی جانب سے جاری کردہ ڈگریوں کی تصدیق نہ ہونے کے مسئلے کا بھی جائزہ لیا۔ ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ اس مقصد کے لئے ایک نئی جانچ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ چیئرپرسن نے اس معاملے میں طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایچ ای سی کو عمل تیز کرنے کی ہدایت کی اور متاثرہ ڈگری ہولڈرز کو مسئلے کے حل کے لئے کمیٹی کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین (آئی بی سی سی) کی جانب سے کیمبرج اے لیول امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھی بریفنگ دی گئی۔
متاثرہ طلبہ نے اپنے تحفظات اور ممکنہ لیکس سے متعلق معلومات کمیٹی کے سامنے پیش کیں۔ سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے آئی بی سی سی کو ہدایت کی کہ متاثرہ طلبہ کی نمائندگی کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے آئی بی سی سی پر زور دیا کہ وہ کیمبرج حکام سے رابطہ کرکے منصفانہ حل یقینی بنائے اور طلبہ کے حقوق کا تحفظ کرے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پر غور ذیلی کمیٹی کے کنوینئر کی عدم موجودگی کے باعث مؤخر کر دیا گیا۔ کمیٹی نے بصارت سے محروم افراد سے متعلق پالیسی فریم ورک کے امور کا بھی جائزہ لیا۔ چیئرپرسن نے اس حوالے سے سابقہ کمیٹی ہدایات پر عملدرآمد اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سپیشل ایجوکیشن کو ہدایت دی کہ وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے ایڈیشنل سیکرٹری کی نگرانی میں تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کرکے زیر التوا مسائل حل کئے جائیں۔ اجلاس میں کراچی کے رضاکاروں کی جانب سے نوجوانوں میں مالیاتی آگاہی کے فروغ کے لئے پیش کی گئی ایک تجویز پر بھی بریفنگ دی گئی۔ چیئرپرسن نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے وفاقی سیکرٹری تعلیم اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ رضاکاروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطوں کو آسان بنایا جائے تاکہ ملک بھر کے سکولوں اور جامعات میں مالیاتی آگاہی کے سیشنز منعقد کیے جا سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں اور فریقین کو ہدایت کی کہ سفارشات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور آئندہ اجلاسوں میں پیشرفت سے آگاہ کیا جائے۔








