ایف پی پی آر اے اور عالمی بینک کے تعاون سے مجوزہ نیشنل پروکیورمنٹ اسٹریٹیجی 2026-2030 پر مشاورتی اجلاس
ایف پی پی آر اے اور عالمی بینک کے تعاون سے مجوزہ نیشنل پروکیورمنٹ اسٹریٹیجی 2026-2030 پر مشاورتی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (ایف پی پی آر اے) اور عالمی بینک کے تعاون سے پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری آفس میں مجوزہ نیشنل پروکیورمنٹ سٹرٹیجی 2026-2030 پر مشاورتی اجلاس منگل کومنعقدہوا۔ اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور گلگت بلتستان کی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹیز کے نمائندوں کے علاوہ کثیرالجہتی ترقیاتی مالیاتی اداروں بشمول عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک ، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
افتتاحی خطاب میں پیپرا کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے سرکاری خریداری کے نظام کو سرکاری مالیاتی نظم و نسق اور قومی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے اس کی سٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ وفاقی حکومت کے اصلاحات اور گورننس ایجنڈے سے مکمل ہم آہنگی رکھتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سرکاری خریداری کا حجم ملک کے مجموعی قومی پیداوار کے تقریبا ً 19 سے 20 فیصد کے برابر ہے جو اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک بھر میں شفاف، جوابدہ، مسابقتی اور موثر سرکاری خریداری کے نظام کو فروغ دینے کے لئے جامع قومی اصلاحاتی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
انہوں نے قومی خریداری حکمتِ عملی کی تیاری میں عالمی بینک کی مسلسل تکنیکی معاونت کو سراہا اور سرکاری خریداری سے متعلق مشاورتی گروپ کے ذریعے وفاقی اور صوبائی پی پی آر ایز کے باہمی تعاون کی بھی تعریف کی۔ نیشنل پروکیورمنٹ سٹرٹیجی وفاقی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا ایک اہم اقدام ہے، اس کے تحت سرکاری خریداری کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، پائیدار خریداری کے اصولوں کا فروغ، خریداری کی کارکردگی کی نگرانی اور تجزیات، معاہدوں کا موثر انتظام، سرکاری مالیاتی نظم و نسق کے نظام کے ساتھ باہمی انضمام اور خریداری کے شعبے سے وابستہ افرادی قوت کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران عالمی بینک کے کنسلٹنٹ فائق دیک نے موجودہ صورتحال کے تجزیے کے نتائج پیش کئے اور مجوزہ حکمتِ عملی کے سٹریٹجک اہداف، اصلاحاتی ترجیحات، نفاذ کے طریقہ کار اور نتائج کے فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکا نے مجوزہ اصلاحات کا تفصیلی تکنیکی جائزہ لیا اور ان کے موثر نفاذ اور بہتر نتائج کے حصول کے لئے مختلف سفارشات پیش کیں۔
اجلاس کوبتایاگیا کہ مجوزہ حکمتِ عملی چار بنیادی سٹرٹیجک اہداف پر مشتمل ہے جن میں قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنا،ادارہ جاتی گورننس کو مضبوط بنانا وخریداری کے شعبے کو پیشہ وارانہ بنیادوں پر استوار کرنا، ڈیجیٹل خریداری کے نظام کو فروغ دے کر عملی کارکردگی میں بہتری لانا اور جوابدہی، شفافیت، دیانتداری اور کارکردگی کی نگرانی کے نظام کو مزید موثر بناناشامل ہے۔ شرکا نے اس حکمتِ عملی کی جامعیت اور مستقبل بین نوعیت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کے کامیاب نفاذ کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مضبوط تعاون، ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ اور مسلسل اشتراکِ عمل ناگزیر ہے۔ شرکاء نے جدید، مربوط، شفاف اور موثر انداز میں منظم سرجاری خریداری کے نظام کوفروغ دینے کے عزم کااعادہ کیا








