خیبرپختونخوا کے علاقے حسن خیل میں فیڈرل کانسٹیبلری پر بزدلانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا،فیڈرل کانسٹیبلری کے 6 جوان بہادری سے لڑتے ہوئے مادر وطن پر قربان ہو گئے،سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں آٹھ خوارجی دہشت گرد بھی جہنم واصل کر دیئے گئے۔
خیبرپختونخوا کے علاقے حسن خیل میں ایف سی پر بزدلانہ حملہ ناکام، آٹھ خوارجی دہشت گرد جہنم واصل، ایف سی کے 6 جوان شہید

مزید خبریں
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا کے علاقے حسن خیل میں فیڈرل کانسٹیبلری پر بزدلانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا،فیڈرل کانسٹیبلری کے 6 جوان بہادری سے لڑتے ہوئے مادر وطن پر قربان ہو گئے،سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں آٹھ خوارجی دہشت گرد بھی جہنم واصل کر دیئے گئے۔ذرائع کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں میں نائیک عامرشہید، لانس نائیک محمد یوسف شہید، لانس نائیک محمد ریاض شہید، سپاہی اجمیرشہید، احسان شہید اور ریاض شہید شامل ہیں۔ شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے شہداء کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، قوم بہادر سپوتوں کی اس عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ شہداء کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد اور یکسو ہے۔ذرائع کے مطابق حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان مسلسل افغان سرزمین کے پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے، دہشت گردوں کا حملہ واضح ثبوت ہے کہ فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان، افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی جانب متعدد بار افغان عبوری حکومت کی توجہ مبذول کرا چکا ہے۔
افغانستان میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی موجودگی، ان کی سہولت کاری اور منصوبہ بندی سے انکار نہیں کیا جا سکتا،حملے کو ناکام بنا کر سکیورٹی فورسز نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں پرعزم ہے،آپریشن غضب للحق افغانستان میں موجود آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔








