مناسکِ حج کی تکمیل؛ پاکستان کے سمیت دنیا بھر کے حجاج کی واپسی کا سفر شروع، سعودی وزارتِ حج اور سول ایوی ایشن کی نئی گائیڈ لائن جاری

مناسکِ حج کی کامیاب اور خوش اسلوبی سے تکمیل کے بعد ‘ضیوف الرحمن’ کی اپنے وطن واپسی کے بڑے آپریشن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی وزارتِ حج و عمرہ اور جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن نے پاکستان سے آئے ہوئے ایک لاکھ 19 ہزار حجاجِ کرام سمیت دنیا بھر کے لاکھوں عازمین کے لئے سفری ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی نئی اور …

خرم شہزاد

مدینہ منورہ۔10جون (اے پی پی):مناسکِ حج کی کامیاب اور خوش اسلوبی سے تکمیل کے بعد ‘ضیوف الرحمن’ کی اپنے وطن واپسی کے بڑے آپریشن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی وزارتِ حج و عمرہ اور جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن نے پاکستان سے آئے ہوئے ایک لاکھ 19 ہزار حجاجِ کرام سمیت دنیا بھر کے لاکھوں عازمین کے لئے سفری ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی نئی اور ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ ایئرپورٹس پر رش سے بچا جا سکے اور واپسی کا سفر آسان ہو۔سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ایڈوائزری کے مطابق تمام ممالک کے حج مشنز اور حجاج پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وطن روانگی کے لئے مقررہ تنظیمی ڈھانچے کی پاسداری کریں۔

وزارتِ حج و عمرہ نے حجاجِ کرام کے لئے لازم قرار دیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ جانے سے قبل اپنی پروازوں کے مروجہ ‘چیک ان’ کے عمل اور کاغذی کارروائی کو پہلے سے مکمل کریں، کسی بھی ممکنہ تاخیر، پریشانی یا فلائٹ مس ہونے سے بچنے کے لئے حجاج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پرواز کے مقررہ وقت سے کم از کم 4 گھنٹے پہلے لازمی طور پر ایئرپورٹ پہنچ جائیں تاکہ سفری مراحل سکون سے طے ہو سکیں۔سفری ہالز اور لاؤنجز کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھنے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے سعودی کسٹمز نے واضح کیا ہے کہ تمام حجاج روانگی کے گیٹوں پر موجود رہنمائی اور کسٹمز کے قوانین پر سختی سے عمل کریں۔

ایئرپورٹ کی حدود میں کسی بھی جگہ اپنے سامان کو بغیر نگرانی یا لاوارث ہرگز نہ چھوڑیں۔دوسری جانب سعودی جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن نے مختلف ہوائی اڈوں پر حج سیزن کے ‘آؤٹ باؤنڈ آپریشنل پلان’ کو حتمی شکل دے دی ہے۔ کوالٹی، انسپکشن اور مانیٹرنگ کی ماہر ٹیمیں تمام بین الاقوامی ایئرپورٹس پر چوبیس گھنٹے متحرک ہیں۔ یہ ٹیمیں ایئرپورٹس کے اندر اور ہوائی جہازوں کے بورڈنگ کے عمل کے دوران تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ مملکت سے روانگی تک حجاج کو ایک محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے۔

سعودی حکومت کے ترجمان اداروں کا کہنا ہے کہ یہ مربوط کوششیں اور سخت مانیٹرنگ ضیوف الرحمن کے اپنے وطن واپسی تک ان کی دیکھ بھال اور سعودی عرب کے اعلیٰ ترین سفری معیار برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں جیسا کہ حج کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔ پاکستانی حج مشن نے بھی اپنے 1 لاکھ 19 ہزار حجاج کو ان سعودی قوانین کی مکمل پاسداری کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ واپسی کی پروازوں کا شیڈول متاثر نہ ہو۔