خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے نفاذ کے بارے باضابطہ صدارتی حکمنامہ کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے نفاذ کے بارے باضابطہ صدارتی حکمنامہ کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):وفاقی حکومت نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتحال سیے متعلق آئین کے آرٹیکل 232(1) اور آرٹیکل 234(1) کے نفاذ کا باضابطہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اس صدارتی فرمان کا اطلاق فوری طور پر صوبے بھر میں ہو گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ انتہائی قدم صوبے میں شدت پسندی، دہشت گردانہ کارروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت سرکاری املاک پر حملوں میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، جس سے شہریوں کے جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہو چکے تھے۔
فرمان میں واضح کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت لاقانونیت اور دہشت گردی کے تدارک کے لیے سنجیدگی اور رٹ قائم کرنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں دہشت گرد عناصر بے لگام ہو کر سرگرم ہوئے۔گورنر خیبر پختونخوا کی موصولہ رپورٹ کی روشنی میں صدرِ مملکت نے ادراک کیا کہ صوبے میں آئینی مشینری مفلوج ہو چکی ہے اور موجودہ حالات صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہیں جس کے منفی اثرات ملک کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔ ان حالات میں آئین کے تحت صوبائی نظام کو مزید جاری رکھنا ناممکن ہو گیا تھا۔






