سندھ میں زیریں علاقوں کے پانی میں ڈوبے رہنے والے اور سیلاب کے خطرے سے دوچار 100 دیہات کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے تیرتی کھیتی کے 9.15 ملین ڈالر کے منصوبے کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت 2029 تک 400 ہیکٹر رقبے پر موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی کاشت اور 10 ہزار کسانوں کو تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ …
سندھ کے 100 دیہات میں پانی میں کھیتی کے لیے 91 لاکھ 50 ہزار ڈالر کا منصوبہ تجویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):سندھ میں زیریں علاقوں کے پانی میں ڈوبے رہنے والے اور سیلاب کے خطرے سے دوچار 100 دیہات کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے تیرتی کھیتی کے 9.15 ملین ڈالر کے منصوبے کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت 2029 تک 400 ہیکٹر رقبے پر موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی کاشت اور 10 ہزار کسانوں کو تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ’’زیریں سندھ کے پانی میں ڈوبے رہنے والے اور سیلاب سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار علاقوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے تیرتی کھیتی کے نظام‘‘ کے عنوان سے مجوزہ منصوبے میں سبزیوں، جڑی بوٹیوں اور اناج کی کاشت کے لیے نامیاتی مواد سے تیار کردہ تیرتے ہوئے تختوں کے ذریعے کھیتی باڑی متعارف کرانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔اس اقدام کا مقصد 2029 تک غذائی تحفظ میں 30 فیصد بہتری لانا، پانی جمع ہونے اور سیلاب سے متاثرہ آبادیوں کی نقل مکانی میں کمی اور ان کے ذرائع معاش کو مضبوط بنانا ہے۔
پروگرام کے تحت 100 دیہات اور 400 ہیکٹر رقبے پر موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی زرعی زمین کو ہدف بنایا گیا ہے، اس سے 12,500 افراد براہ راست اور 50 ہزار افراد بالواسطہ مستفید ہوں گے۔مجوزہ منصوبے کے تحت 10 ہزار کسانوں کو تیرتی کھیتی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ، سیلاب کا مقابلہ کرنے والی زرعی تکنیکوں کی تربیت دی جائے گی۔تربیت کے لیے ہدف بنائے گئے کسانوں میں خواتین کا حصہ 20 سے 30 فیصد ہونے کی توقع ہے۔
منصوبے میں خواتین کی قیادت میں کام کرنے والے کسان گروپوں کو تربیت اور ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کے ساتھ ذرائع معاش اور غذائی تحفظ سے متعلق دیگر اقدامات کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔مجوزہ سرگرمیوں میں فصلوں کی کاشت کے لیے نامیاتی مواد سے تیار کردہ تیرتے تختوں کا استعمال، کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے زرعی طریقوں کی تربیت، خواتین کے لیے خصوصی معاونت اور غذائی تحفظ بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔سندھ کے محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی (ای سی سی اینڈ سی ڈی ڈی) کو منصوبے پر عمل درآمد کا ذمہ دار ادارہ نامزد کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور محکمہ زراعت سندھ کو معاون اداروں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق پروگرام کے تحت غذائی تحفظ میں بہتری کے لیے 2029 کو ہدفی سال مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس میں پانی میں ڈوبے رہنے والے 100 دیہات کا احاطہ کرنے اور 400 ہیکٹر رقبے پر موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی کاشت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔منصوبے کا مجوزہ بجٹ 9.15 ملین ڈالر ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے لیے عالمی بینک کے مالی سال 2026 سے مالی سال 2035 تک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت زیر کارروائی منصوبوں میں شامل ہے۔








