خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں عوام بے گھر نہیں ہوں گے، رانا ثناء اللہ

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات میں شہریوں کو کسی قسم کی زحمت نہیں ہوگی اور نہ ہی ماضی کی طرح عوام بے گھر یا آئی ڈی پیز بنیں گے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سکیورٹی فورسز کے اہداف انٹیلی جنس بیسڈ …

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات میں شہریوں کو کسی قسم کی زحمت نہیں ہوگی اور نہ ہی ماضی کی طرح عوام بے گھر یا آئی ڈی پیز بنیں گے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سکیورٹی فورسز کے اہداف انٹیلی جنس بیسڈ ہیں اور یہ کارروائیاں فیلڈ کمانڈرز کے صوابدیدی و پیشہ ورانہ فیصلوں کے تحت عمل میں لائی جاتی ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے مذاکرات کے معاملے پر پاکستان تحریکِ انصاف کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے انسدادِ دہشت گردی پر واضح مؤقف اپنا رکھا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکراتی مسودے پر بات چیت کے دوران پی ٹی آئی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو اپنی مشروط منظوری سے نتھی کرنا چاہتی تھی، جو کہ کسی طور ممکن نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے فورم پر خود وزیرِ اعلیٰ سربراہی کرتے ہیں تو وہیں ان امور پر فیصلے کیوں نہیں کیے جاتے؟ مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات اور حکومتی یقین دہانیوں سے متعلق سوال پر مشیرِ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے واضح شرط رکھی تھی کہ کسی بھی قسم کی مشاورت یا ملاقات سے قبل احتجاج اور لانگ مارچ کی کال واپس لی جائےکیونکہ دباؤ اور بلیک میلنگ کے تحت فیصلے نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے سینئر اور سنجیدہ رہنماؤں کو پسِ پشت ڈال کر ناتجربہ کار افراد کو بااختیار بنایا گیا جس کے باعث معاملات میں تعطل پیدا ہوا۔