خیبر پختونخوا میں گورنر راج سیاسی انتقام نہیں، دہشت گردی اور صوبائی حکومت کے رویے کے باعث ناگزیر ہوا، طلال چوہدری

وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کسی سیاسی انتقام کے تحت نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کے غیر سنجیدہ رویے کے باعث ناگزیر ہو چکا تھا۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات …

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کسی سیاسی انتقام کے تحت نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کے غیر سنجیدہ رویے کے باعث ناگزیر ہو چکا تھا۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات دگنے ہو چکے ہیں اور موجودہ لہر گزشتہ 25 سال کے دوران سب سے زیادہ سنگین ہے۔

طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کی قیادت نے خود اعتراف کیا کہ وہ اپنی سیاسی مجبوریوں اور اندرونی مخالفت کے خوف سے شہداء کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کی میز پر پی ٹی آئی کو تمام سیاسی مراعات دینے کی پیشکش کی تھی اور صرف ایک مطالبہ تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں بغیر کسی لیت و لعل کے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں لیکن پی ٹی آئی نے اس متفقہ بیانیے سے گریز کیا۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 14 سال حکومت کرنے اور وفاق سے اربوں روپے کے خصوصی فنڈز ملنے کے باوجود صوبے میں نہ تو سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہوا، نہ سی ٹی ڈی کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا اور نہ ہی فرانزک لیب بن سکی۔ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 232 اس قسم کے بحران سے نمٹنے کے لیے وفاق کو اختیار دیتا ہے اور نفاذ کے بعد اگلے 6 ماہ کے اندر عوام کو صوبے کے حالات میں واضح اور مثبت تبدیلی نظر آئے گی۔