پشاور۔07جون (اے پی پی)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز کے مطابق کیسز کی رپورٹنگ ہورہی ہے، صوبے میں کورونا سے جاں بحق افراد کی میتیں اب لواحقین کے حوالہ کی جارہی ہیں، فوت ہونے کے بعد جن لوگوں کے نتائج مثبت آتے ہیں انہیں بھی کورونا لسٹ میں شامل …
خیبر پختونخوا میں عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز کے مطابق کیسز کی رپورٹنگ ہورہی ہے،اجمل وزیر
پشاور۔07جون (اے پی پی)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز کے مطابق کیسز کی رپورٹنگ ہورہی ہے، صوبے میں کورونا سے جاں بحق افراد کی میتیں اب لواحقین کے حوالہ کی جارہی ہیں، فوت ہونے کے بعد جن لوگوں کے نتائج مثبت آتے ہیں انہیں بھی کورونا لسٹ میں شامل کیا جاتاہے، خیبر پختونخوا میں کورونا کیسز چھپائے نہیں جارہے ہیں ابتداءمیں صوبے میں کورونا کی ٹیسٹنگ تعداد صرف 20 تھی جو اب تقریبا 2800 تک پہنچائی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکرٹریٹ اطلاع سیل میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل خان وزیر کا کہناتھا کہ صوبہ بھر کے 49 ہسپتالوں کے طبی عملے کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے حفاظتی سامان کی ساتویں کھیپ مہیاکر دی ہے جس میں 52315 این 95 ماسک، 26522 کے این 95 ماسک، چار لاکھ تیس ہزار سرجیکل فیس ماسک، 7925 حفاظتی سوٹ، 18244 سرجیکل گاونز، 10330 سرجیکل دستانے، 21185 کیپس، 21000 شوز کور، 3475 فیس شیلڈز، 1155 حفاظتی عینکیں، شامل ہیں، ہسپتالوں میں سامان کی تقسیم این ڈی ایم اے کے وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ 3000 فیس ماسک اور 1500 پرسنل حفاظتی کٹس ریسکیو 1122 کو بھی مہیا کی گئی ہیں۔ اسی طرح مجموعی طور پر صوبائی حکومت 12 لاکھ 39 ہزار فیس ماسک، 1 لاکھ 90 ہزار دستانے، 16325 حفاظتی کٹس، 159302 حفاظتی سوٹ، 85 ہزار این 95 ماسک سمیت دیگر ضروری سامان متعلقہ اداروں کو بھیج چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ ایکشن میں ہے،مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جارہا ہے،مقررہ نرخ سے زیادہ ریٹ پر آٹا فروخت کرنے والوں کے خلاف انتظامیہ اور محکمہ خواراک دونوں کا کریک ڈاﺅن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ محمود خان کے واضح احکامات ہیں کہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، پٹرول کی مصنوعی قلت اور ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف بھی صوبہ بھر میں کاروائیاں جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اوورسیز کی فکر نہ کریں وہ وزیراعظم عمران خان کے دل کے قریب ہیں، باچا خان انٹر نیشنل ائیرپورٹ سے اوورسیز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے،یکم فروری سے 20 مارچ تک 478 ریگولر پروازوں کے ذریعے 81524 مسافر پشاور ائیرپورٹ پر پہنچے تھے جن کی اسکریننگ کی گئی ہے جبکہ 15 اپریل سے 28 مئی تک 23 خصوصی پروازوں کے ذریعے کل 4675 مسافر پشاور ائیرپورٹ پہنچے ہیں،اسی طرح خصوصی پروازوں کے ذریعے باہر ممالک سے اوورسیز کی میتیں لائی جارہی ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاﺅن جاری ہے،صوبہ بھر میں کل 33001 معائنے کیے ہیں جہاں پر کل 3553 کاروباروں پر جرمانے عائد کیے ہیں اور 811 کاروباروں کو سیل کیا گیا ہے جبکہ جرمانوں کی مد میں اب تک 1704262 روپے صوبائی خزانے میں جمع کیے جا چکے ہیں، پیٹرول فراہم نہ کرنے والے پمپس کو سیل کیا گیا ہے۔ان کا کہناتھا کہ سندھ حکومت خلوتوں میں کچھ اور جلوتوں میں کچھ اور کہتی ہے، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں قومی رابطہ کمیٹی اجلاس میں سب سے زیادہ وقت وزیراعلیٰ سندھ کو دیا جاتا ہے جسکا میں خود اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت آزاد کشمیر کے وزیراعظم بھی گواہ ہیں لیکن انکی منطق سمجھ نہیں آتی کہ باہر آکر یہ کیوں بے جا تنقید شروع کردیتے ہیں ، بلاول زرداری سندھ پر توجہ دیں خیبر پختونخوا میں کرونا صورتحال قابو میں ہے اور کورونا سے صحتیابی کی شرح سندھ سے کافی بہتر ہے، پیپلز پارٹی کو یہ ہضم نہیں ہورہا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں ہم کورونا کے خلاف کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اجمل وزیر کا کہنا تھاکہ وزیراعظم عمران خان پوری نیک نیتی کیساتھ تمام مکاتب فکر کے لوگوں اور اپوزیشن کو ساتھ لیکر کورونا کے خلاف نبرد آزما ہیں اور انشائاللہ ہم کورونا کے خلاف سرخرو ہوں گے۔ لاک ڈان سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں ان کا کہنا تھاکہ لاک ڈاﺅن میں حکومت عوام کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت بہترین ریلیف پیکج دے رہی ہے ملکی تاریخ میں یہ ایک شفاف منصوبہ ہے جسکی تعریف بین القوامی سطح پر کی جاتی ہے۔ انہوں نے انسداد ٹڈی دل کےلئے حکومتی اقدامات کے بارے میں کہنا تھا کہ صوبے میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے محکمہ زراعت،ریلیف اورضلعی انتظامیہ ایکشن میں ہے۔جنوبی اضلاع سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں اسپرے کا انتظام کیا گیا ہے وزیراعلیٰ محمود خان بیک وقت کورونا اور ٹڈی دل کے خاتمے کے انتظامات خود مانیٹر کررہے ہیںاور محکمہ ریلیف سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے روزانہ بریفنگ لے رہے ہیں۔









