وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی یونٹ کے قیام اور صوبے کی تقسیم سے متعلق تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کسی قسم کا کوئی نیا انتظامی یونٹ نہیں بنایا جا رہا اور نہ ہی صوبے کو تقسیم کیا جا رہا ہے،حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں امن و امان کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کو معمول پر لانا …
خیبر پختونخوا کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے،محسن نقوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی یونٹ کے قیام اور صوبے کی تقسیم سے متعلق تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کسی قسم کا کوئی نیا انتظامی یونٹ نہیں بنایا جا رہا اور نہ ہی صوبے کو تقسیم کیا جا رہا ہے،حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں امن و امان کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کو معمول پر لانا ہے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے جتھوں کو فوری منتشر ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر حفاظتی تحویل میں لینے سمیت گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت جنوبی پنجاب ماڈل کی طرز پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت ایک مخصوص سیکرٹریٹ فراہم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے 12 اضلاع اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں، جہاں خصوصی توجہ، اضافی فنڈنگ، بہتر انتظامی امور اور امن و امان کی فوری بحالی ناگزیر ہے۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ اس وقت حکومت کی اولین ترجیح خیبر پختونخوا میں لا اینڈ آرڈر کو بحال کرنا ہے اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے جو بھی قدم اٹھانا پڑا اٹھائیں گے۔ وزیر داخلہ نے احتجاج کرنے والے جتھوں کو دوٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ فوری طور پر منتشر ہو جائیں کیونکہ اب انہیں کوئی صوبائی تحفظ حاصل نہیں رہا۔
انہوں نے تنبیہ کی کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مکمل قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور وہ خود اپنے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے، اس لیے وہ منتشر ہو جائیں تاکہ صوبے میں معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔







