لاہور۔28اگست (اے پی پی):دریائے راوی میں پانی چڑھ رہا ہے اور اگلے چھ گھنٹے ایسا ہی رہنے کا امکان ہے جبکہ آئندہ چوبیس گھنٹے قصور،لاہور اور ساہیوال کیلئے اہم ہیں۔یہ بات ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کا ٹھیا نے ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔انہوں نے بتایا کہ آج صبح ایک لاکھ اکیس ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا۔اس وقت 2 لاکھ کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے اور39 سال بعد دو لاکھ کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام محکمے اس وقت فعال ہیں،چند ہائوسنگ سوساٹیز میں مسائل تھے جن کو خالی کروا لیا گیا ہے جبکہ کچھ ہائوسنگ سوسائٹی میں تین سے چار فٹ پانی آیا ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال کے پیش نظرنو اضلاع میں فوج کو مدد کے لیے بلا لیا گیا ہے۔ڈی جی نے مزید بتایا کہ ہیڈ قادر آباد میں دس لاکھ 77 ہزار کیوسک کا پانی گزر رہا تھا۔کل وہاں سے منڈی بہاوالدین کا بند توڑا گیا۔کل حافظ آباد پنڈی بھٹیاں اور چینوٹ کو بچا لیا گیا۔اب قادر آباد براج سیف زون میں آیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ اگلے چند گھنٹے چینوٹ اور جنگ کے لیے بھی اہم ہیں۔کیو نکہ آٹھ سے نو لاکھ کیوسک پانی چینوٹ اور تریموں کی طرف آگے چند گھنٹوں میں جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ 26 اگست مشکل ترین دن تھا۔پندرہ لاکھ چونتیس ہزار کیوسک پانی دریاوں اور نالوں میں سے گزرا ہے جبکہ نالہ ڈیک سے77800 کیوسک پانی گزرا ہے۔ڈی جی عرفان علی کاٹھیانے بتایاکہ جھنگ اور چینوٹ کے حوالے سے تمام ادارے متحرک ہیں۔ابھی تک 17لوگ آ ٹھویں سپیل میں جان بحق ہوئے ہیں۔انہوں نے امدادی کاموں کے حوالے سے بتایا کہ اٹھارہ اضلاع میں ٹینٹ سمیت تمام اشیا پہنچا دی گئیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شام کو نواں سپیل شروع ہو رہا ہے۔بھارت کی طرف ہونے والی شدید بارشوں کے باعث پاکستان میں تباہی ہوئی ہے۔ابھی بھی پانی ان جگہ سے جا رہا ہے جہاں سے قدرتی گذرگاہیں تھیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلی کی ہدایات پر فنڈز کی کوئی کمی نہیں، سروے بھی جلد شروع کیا جا رہا ہے۔