دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور ابھرتی ہوئی ریاست ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

کوئٹہ۔ 25 دسمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، آج ہم اس خواب کو عملی تعبیر کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو قائداعظم ریزیڈنسی زیارت میں یومِ قائد کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف ہمارا مؤقف نہیں …

کوئٹہ۔ 25 دسمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، آج ہم اس خواب کو عملی تعبیر کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو قائداعظم ریزیڈنسی زیارت میں یومِ قائد کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف ہمارا مؤقف نہیں بلکہ دنیا کے بڑے بڑے رہنماء بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان ایک مضبوط، باوقار اور ابھرتی ہوئی ریاست ہے۔ بالخصوص رواں سال مئی کے بعد جس انداز میں افواجِ پاکستان نے، سپہ سالار سے لے کر آخری سپاہی تک، پاکستان کی حرمت، خودمختاری اور عزت کا دفاع کیا، وہ قومی تاریخ کا ایک روشن اور قابلِ فخر باب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو جس جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمت عملی سے پسپا کیا گیا، اس کے نتیجے میں پاکستان کے وقار اور عالمی احترام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اور روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ عزت ہمیشہ فاتح قوموں کو دی جاتی ہے، شکست خوردہ اقوام کو نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر صوبے کی ترقی، پائیدار امن اور عام آدمی تک ترقی کے ثمرات پہنچانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کر لیا ہے، جس پر مرحلہ وار عملدرآمد جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اچھی طرزِ حکمرانی کا ایسا ماڈل متعارف کرانا ہماری ترجیح ہے جو ریاستِ پاکستان کو مضبوط کرے اور قومی مفادات کے عین مطابق ہو ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں ریاستِ پاکستان کے خلاف منظم انداز میں سازش کی جا رہی ہے، جس کے مختلف پہلو ہیں تاہم ان سازشوں کو ہر سطح پر بے نقاب اور ناکام بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دشمن ازل سے ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرتا آ رہا ہے، کبھی بلوچ اور پشتون کے نام پر، کبھی پنجابی اور سندھی کے نام پر تاکہ قوم کو لسانی بنیادوں پر کمزور کیا جا سکے ۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 14 اگست 1947 سے پہلے ہماری کوئی اجتماعی قومی پہچان نہیں تھی مگر قیامِ پاکستان کے بعد ہماری پہلی اور سب سے مضبوط شناخت ایک باوقار پاکستانی کی ہے، اس کے بعد ہماری لسانی اور علاقائی شناختیں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب لسانی بنیادوں پر قوم کو تقسیم کرنے میں دشمن ناکام ہوا تو پاکستان کے نظریاتی تشخص پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ وہ نظریاتی بنیاد ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے اور ایک قوم بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی بنیاد کو کمزور کرنے کے لیے مذہب کے نام پر ہم پر جنگ مسلط کی گئی، جسے فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے، چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، ٹی ٹی اے ہو یا افغان عبوری حکومت کی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گرد سرگرمیاں، ان عناصر کا مقصد پاکستان کی اس نظریاتی جڑ کو کمزور کرنا تھا جس کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناحؒ نے رکھی تھی، مگر دشمن اپنے عزائم میں ناکام رہا ۔ میر سرفراز بگٹی نے فخر کے ساتھ کہا کہ ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، زیارت، دکی، پشین اور دیگر تمام پشتون قبائل نے افواجِ پاکستان اور ایف سی بلوچستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس سازش کو ناکام بنایا۔

انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل جن علاقوں میں دہشت گرد عناصر دندناتے پھرتے تھے، آج اللہ کے فضل و کرم سے، سکیورٹی فورسز بالخصوص کمانڈر 12 کور اور ایف سی بلوچستان کی قیادت میں وہاں فتنہ الہندوستان اور خوارج کا ایک فرد بھی نظر نہیں آتا ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس کامیابی کا کریڈٹ عوام کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنی سکیورٹی فورسز کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایک بار پھر مکمل امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا اور قائداعظم کے پاکستان کا خواب ضرور شرمندۂ تعبیر ہوگا۔