دنیا بھر میں 2023 میں تقریباً 2.7 بلین افراد سیکنڈ ہینڈ سموک سے متاثر ہوئے جن میں سے تقریباً 17 لاکھ موت کے منہ میں چلے گئے۔
دنیا بھر میں 2023 میں 2.7 بلین افراد سیکنڈ ہینڈ سموک متاثر، 17 لاکھ موت کے منہ میں چلے گئے، رپورٹ

مزید خبریں
لندن۔8ستمبر (اے پی پی):دنیا بھر میں 2023 میں تقریباً 2.7 بلین افراد سیکنڈ ہینڈ سموک سے متاثر ہوئے جن میں سے تقریباً 17 لاکھ موت کے منہ میں چلے گئے۔
اے ایف پی نے طبی جریدے دی لانسٹ میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ 2023 میں سیکنڈ ہینڈ سموک سے متاثر ہو نے والے دو ارب ستر کروڑ افراد میں سے 76 کروڑ 70 لاکھ بچے تھے جن کی عمریں 14 سال سے کم تھیں۔ یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ڈیٹا بیس پب میڈ کے اعداد و شمار کے مطابق تمباکو نوشی عالمی سطح پر بیماریوں کی ایک اہم وجہ ہے، اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بہت سے تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو تمباکو کے سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ 2023 میں تمباکو نوشی سے متعلق بیماریاں 80 لاکھ افراد کی موت کا سبب بنیں۔
رپورٹ کے مطابق سیکنڈہینڈ سموک سے اموات کے علاوہ بہت سے لوگ قبل از وقت معذوری اور دل کے امراض میں مبتلا ہوئے ، خاص طور سے لاکھوں بچوں کو سیکنڈ ہینڈ سموک کی وجہ سے سانس کی نالی کے انفیکشن رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق سیکنڈ ہینڈ سموک سے متاثر ہونے والے تمباکو نوشی کے دوران زیادہ اور کم درجہ حرارت سے پیدا ہونے والے دونوں اقسام کے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔
تمباکو نوشی کے دوران کم درجہ حرارت پر پیدا ہونے والے دھوئیں میں زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے مرکبات کی فی یونٹ تعداد زیادہ ہوتی ہے ۔ سیکنڈ ہینڈ سموک سے متاثر ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعدادشامل ہے۔ رپورٹ میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات اور گھروں میں تمباکو کے مضبوط کنٹرول کو نافذ کریں تاکہ خواتین اور بچوں کو دوسرے ہاتھ کے دھوئیں سے بہتر طور پر بچایا جا سکے۔








