اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):پاک یوکے بزنس کونسل کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے ماحول دوست اور آلودگی سے پاک قابل تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے تاکہ صنعتی شعبے میں سستی بجلی کے استعمال سے پیدا واری لاگت کم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو …
دنیا تیزی سے ماحول دوست اور آلودگی سے پاک قابل تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے، میاں کاشف اشفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):پاک یوکے بزنس کونسل کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے ماحول دوست اور آلودگی سے پاک قابل تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے تاکہ صنعتی شعبے میں سستی بجلی کے استعمال سے پیدا واری لاگت کم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو پاک برٹش فرینڈشپ کونسل کے 10 رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جس نے صدر پاک برٹش فرینڈشپ کونسل نارتھ ویسٹ چیپٹر یوکے محمد ارباب خان کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک میں مینوفیکچرنگ اور زراعت کے شعبوں میں قابل تجدید توانائی کا استعمال بتدریج بڑھ رہا ہے۔ مقامی سرمایہ کاروں کو زرمبادلہ بچانے کے لیے شمسی اور ونڈ انرجی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تکنیکی اعداد و شمار کے ساتھ ممکنہ مقامات کی نشاندہی میں مدد کرنی چاہیے کہ گرڈ کے بغیر کتنی قابل تجدید توانائی نصب کی جا سکتی ہے اور ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے کتنے سرمائے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گوادر اور چاغی کے علاقوں میں سولر ونڈ ہائبرڈ اور خیبر پختونخواہ میں سولر ہائیڈروہائبرڈ انرجی کے مواقع سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ میاں کاشف نے کہا کہ ہائیڈرو الیکٹرک ٹیکنالوجی سب سے سستے آپشنز پیش کرتی ہے اور ڈیموں میں تیرتے سولر پاور پلانٹس کی وجہ سے اس شعبے میں بہت سی پیشرفت ہوئی ہے۔
اس طرح کا ایک پراجیکٹ پہلے ہی تربیلا میں زیر تکمیل ہے۔ خیبرپختونخوا اور اس سے آگے کا علاقہ اس کے لیے مثالی ہے کیونکہ شمسی توانائی تیزی سے دنیا میں متبادل توانائی کے طور پر مقبول ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں سولر پینلز بنانے والی کمپنیوں نے اس کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے اپنی قیمتیں کم کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خریداری اور تنصیب کی لاگت میں کمی آتی رہے گی اور اب مینوفیکچررز لیز پر فروخت کے آپشن بھی پیش کرتے ہیں جو روایتی بجلی کی قیمتوں سے کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کے ٹیرف روایتی بجلی کے مقابلے میں کم از کم 20 فیصد سستے ہیں۔ شمسی توانائی کے پراجیکٹس کی عمر 25 سے 30 سال تک ہے اور یہ تاجروں و صنعتکاروں کے لیے پائیدار اور سستی توانائی کا متبادل بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ شمسی نظام کی دیکھ بھال اور مینٹی نینس بھی سستی ہے۔
محمد ارباب خان نے کہا کہ شمسی توانائی 100 فیصد صاف ہے جو بجلی کی تیاری کے لیے تیل، کوئلے اور قدرتی گیس پر انحصار کو کم کرتی ہے۔ یہ فوسل فیول نقصان دہ گیسیں خارج کرتے ہیں جو ہوا، پانی اور زمین کو متاثر کرتے ہیں اور گلوبل وارمنگ کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2065 تک زمین سے پودوں اور جانوروں کی اس سے زیادہ انواع معدوم ہو جائیں گی جو مجموعی طور پر پچھلے 65 ملین سالوں میں ختم ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف سورج کی وافر روشنی توانائی کا ایک لامحدود ذریعہ ہے، شمسی توانائی کوئی آلودگی پیدا نہیں کرتی اور اوزون کی تہہ کو بھی نقصان نہیں پہنچاتی۔ صنعتی شمسی توانائی کرہ ارض کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں جو ناقابل تجدید توانائی کے ذرائع کو زمین پر برقرار رکھنے اور ماحول کی حفاظت میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو شمسی توانائی کی ترغیب دینے کے لیے کئی ممالک میں حکومت ان لوگوں کو ٹیکس کریڈٹ دیتی ہے جو رہائشی یا تجارتی مقاصد کے لیے چھت پر سولر پینل لگاتے ہیں اور مقامی حکومتیں قابل تجدید توانائی کے کاروبار کو فروغ دے رہی ہیں۔
محمد ارباب خان نے کہا کہ شمسی توانائی کا مستقبل روشن ہے کیونکہ اس نے پہلے ہی پاور انڈسٹری، اس کے کاروباری ماڈل اور گرڈ تک بجلی کی ترسیل کے طریقوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے لیے صنعتی پیمانے پر شمسی توانائی کی پیداوار سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت سے مواقع موجود ہیں۔








