او آئی سی مسلمانوں کے ناقابل تنسیخ حقوق کے تحفظ اور امت میں فرقہ ورانہ تقسیم کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرے، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا نیویارک میں تنظیم کی خصوصی تقریب سے خطاب

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں حضرت محمدﷺ کے 1500ویں یوم ولادت کی مناسبت سے امن اور رواداری کے کلچر کے فروغ کے حوالے سے او آئی سی کی اعلیٰ سطح کی خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم نے اس موقع …

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں حضرت محمدﷺ کے 1500ویں یوم ولادت کی مناسبت سے امن اور رواداری کے کلچر کے فروغ کے حوالے سے او آئی سی کی اعلیٰ سطح کی خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ یہ امن، انصاف، ہمدردی اور رواداری کی لازوال اقدار پر غور کرنے کا موقع ہے جس کی مثال حضور ﷺ نےاپنی تعلیمات اور کردار کی صورت میں پیش کی ہے۔

حضورﷺ کے فلسفہ کے تبدیلی کے حوالے سے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے اس بات کا اجاگر کیا کہ کس طرح انصاف، مشاورت، رواداری اور تنازعات کے پرامن حل سے متعلق حضورﷺ کی تعلیمات کی بازگشت اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں میں سنائی دیتی ہے۔سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے میثاق مدینہ، معاہدہ حدیبیہ اور مکہ مکرمہ کی پرامن فتح کا حوالہ دیتے ہوئے رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات و کردار کی عالمگیر مطابقت کا حوالہ دیا جس میں تکثیریت، مکالمہ، عفو و درگزر اور بین الاقوامی قوانین کے جدید طرز عمل کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

انہوں نے امت مسلمہ کو درپیش عصری چیلنجز کی طرف بھی توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا فلسطین اور کشمیر کے تنازعات اور بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا جیسی ناانصافیوں سے عالمی امن کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے ناقابل تنسیخ حقوق کے تحفظ اور امت میں فرقہ ورانہ تقسیم کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرے۔

نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے امن اور رواداری کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان مضبوط شراکت داری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی پاک ﷺ کی ولادت باسعادت کے حوالہ سے اس تقریب کو ہمارے ایسے عمل کا محرک بننا چاہیے جو حضورﷺ کے رحم، انصاف اور ہمدردی کے لازوال پیغام کو جدید دور کی ایسی پالیسیوں میں تبدیل کرنے والا ہو جو عزت، مساوات اور باہمی احترام کو برقرار رکھتی ہیں۔ انہوں نے ان مقاصد کے لیے پاکستان کی ثابت قدمی اور اس اجتماعی کوشش میں او آئی سی کے اراکین اور وسیع تر عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

مزید خبریں