ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایف او) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 690 ارب ڈالر مالیت کی 1.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ ڈبلیو ایف او کے مطابق دنیا میں ایک ارب انسان بھوک کا شکار ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے
دنیا میں سالانہ 690 بلین ڈالر کی 1.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن
اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایف او) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 690 ارب ڈالر مالیت کی 1.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ ڈبلیو ایف او کے مطابق دنیا میں ایک ارب انسان بھوک کا شکار ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 11 فیصد آبادی کو رات کا کھانا نصیب نہیں ہوتا، عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ خوراک کی عدم دستیابی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جبکہ 40 سے زیادہ ممالک قحط کی دہلیز پر ہیں، باہمی تنازعات، جنگیں، ماحولیاتی تبدیلیاں اور وبائوں جیسے بحران بھوک کے شکار افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک صحت مند شخص پھلوں اور سبزیوں کے علاوہ ماہانہ تقریباً 70 کلوگرام اناج استعمال کرتا ہے ۔ کم خوراکی یا غذا کی عدم دستیابی کے باعث ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 11 فیصد آبادی کو رات کا کھانا نصیب نہیں ہوتا جبکہ خوراک کی کمی کے باعث چھوٹے بچے اور دودھ پلانے والی مائیں زیادہ متاثر ہوتی ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ساڑھے چودہ ہزار بچے بھوک کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ عالمی اداروں نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سالانہ تقریباً1.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے جس کی لاگت 690 ارب ڈالر کے قریب ہے، اسے ضائع کرنے والے ممالک میں امیر اور غریب ممالک میں شامل ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ خوراک کے ضیاع پر کنٹرول ، جامع زرعی پالیسی ، خوراک کی برآمدات کے بجائے اس کے ذخیرے پر توجہ دی جائے تو غذائی عدم تحفظ کے خدشات کو کم سے کیا جاسکتا ہے۔ گلوبل فوڈ سکیورٹی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2025 میں 47 مختلف خطوں کے کم از کم 266 ملین افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوئے ہیں جو ان ممالک کی مجموعی آبادی کا 22.9 فیصد ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذائی بحران کے تین بڑے عوامل کی وجہ سے لوگ بھوک کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ، جنگوں اور تنازعات کے باعث ان ممالک کی 55.7 فیصد آبادی متاثر ہوئی ، موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں 33.1 فیصد اور معاشی بحران کی وجہ سے 11.3 فیصد افراد متاثر ہوئے ہیں









