ممتاز آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے نیب مقدمات کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی آئینی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کرائے گئے نئے عدالتی نظام کو عملی شکل ملی ہے۔
نیب مقدمات وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کا فیصلہ آئینی ترامیم کی روح کے مطابق ہے، احسان احمد کھوکھر

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):ممتاز آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے نیب مقدمات کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی آئینی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کرائے گئے نئے عدالتی نظام کو عملی شکل ملی ہے۔جمعہ کو اپنے بیان میں حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں نیب ترامیم کے ذریعے شامل کی گئی دفعہ 32 اے کی تشریح سے متعلق طویل عرصے سے موجود قانونی ابہام دور کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ہائی کورٹ کے سیکشن 32 کے تحت فیصلوں کے خلاف قانونی دوسری اپیل وفاقی آئینی عدالت میں دائر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد سزا، بریت، ضمانت، سزا کی معطلی اور نیب سے متعلق دیگر ذیلی معاملات کی اپیلیں جو ترمیم شدہ قانونی فریم ورک کے دائرے میں آتی ہیں، وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ حق اپیل بنیادی آئینی حق نہیں بلکہ قانون کے ذریعے دیا جانے والا حق ہے جسے پارلیمنٹ آئین کے مطابق تخلیق، منظم، ترمیم یا منتقل کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 142 اور آرٹیکل 191 اے کے تحت پارلیمنٹ کو یہ آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ قومی احتساب آرڈیننس کے تحت دوسری اپیلوں کے لیے وفاقی آئینی عدالت کو مجاز اپیلیٹ فورم مقرر کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس آئینی اصول کی توثیق کی ہے کہ ہر عدالت کا دائرہ اختیار صرف آئین اور قانون سے اخذ ہوتا ہے، نہ کہ انتظامی سہولت یا عدالتی ترجیح سے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے تحت تشکیل دیے گئے نئے آئینی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، ادارہ جاتی اختیارات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور مستقبل میں اپیلیٹ و آئینی دائرۂ اختیار سے متعلق قانونی تشریح کے لیے اہم نظیر ثابت ہوگا۔








