پاک ڈیٹا کام لمیٹڈ (پی ڈی ایل) نے محض ایک سال کے دوران اپنی سیٹلائٹ بینڈوڈتھ کے استعمال میں 8 گنا اضافہ کر لیا ہے جو ملک بھر میں مستحکم، محفوظ اور وسیع گنجائش والی مواصلاتی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کا واضح عکاس ہے۔ ادارہ اس وقت تقریباً 550 بڑے سرکاری، مالیاتی اور کارپوریٹ اداروں کو بلاتعطل سیٹلائٹ کنکٹیویٹی فراہم کر رہا ہے۔
دنیا کے بلند ترین اے ٹی ایم سے قومی اداروں تک، پاک ڈیٹا کام نے سیٹلائٹ بینڈوڈتھ کے استعمال میں 8 گنا اضافہ کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):پاک ڈیٹا کام لمیٹڈ (پی ڈی ایل) نے محض ایک سال کے دوران اپنی سیٹلائٹ بینڈوڈتھ کے استعمال میں 8 گنا اضافہ کر لیا ہے جو ملک بھر میں مستحکم، محفوظ اور وسیع گنجائش والی مواصلاتی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کا واضح عکاس ہے۔ ادارہ اس وقت تقریباً 550 بڑے سرکاری، مالیاتی اور کارپوریٹ اداروں کو بلاتعطل سیٹلائٹ کنکٹیویٹی فراہم کر رہا ہے۔
ترجمان پاک ڈیٹا کام کے مطابق بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر ادارے نے ہائی تھرو پٹ سیٹلائٹ (ایچ ٹی ایس) ٹیکنالوجی، اضافی بینڈوڈتھ اور متعدد سیٹلائٹ پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ پاک سیٹ ون آر کی مدتِ کار ختم ہونے اور سروسز کی بندش کے بعد ادارے نے ایچ ٹی ایس ٹیکنالوجی کا رخ کیا کیونکہ ایم ایم ون پر مطلوبہ سٹینڈرڈ کیو-بینڈ گنجائش دستیاب نہیں تھی۔ اس تناظر میں ادارے نے یاہ سیٹ کے ساتھ 2016 سے قائم شراکت داری کو مزید وسعت دی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ یاہ سیٹ کی خدمات متعلقہ قانونی اور ریگولیٹری ضوابط کے تحت کئی برسوں سے پاکستان میں فعال ہیں۔ اس وقت مختلف سروس فراہم کنندگان کے ذریعے ملک میں یاہ سیٹ کے 4 ہزار سے زائد لنکس کام کر رہے ہیں جن میں ایک ہزار سے زائد لنکس سرکاری شعبے سے وابستہ ہیں۔پاک ڈیٹا کام نے صارفین کی ضروریات کے عین مطابق سی-بینڈ، کیو-بینڈ اور کے اے-بینڈ پر مشتمل کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنائی ہے جس میں یاہ سیٹ اور کیسیفک سمیت جدید ایچ ٹی ایس پلیٹ فارمز کا استعمال شامل ہے۔
یہ تکنیکی پیشرفت روایتی کیو-بینڈ کی محدود گنجائش کے چیلنجز سے نمٹنے اور نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ترجمان کے مطابق ادارے کا سیٹلائٹ نیٹ ورک ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این)، جی آر ای ٹنلنگ، فائر والز، انکرپشن اور مستند تصدیقی نظام سے لیس ہے، جو دور دراز علاقوں سے صارفین کے مرکزی نیٹ ورک تک مکمل طور پر محفوظ مواصلاتی روابط کو یقینی بناتا ہے۔پاک ڈیٹا کام نے انتہائی دشوار گزار جغرافیائی مقامات پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، جس کی نمایاں مثال گلگت بلتستان میں درہ خنجراب کے مقام پر سطحِ سمندر سے تقریباً 15 ہزار 396 فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کے بلند ترین اے ٹی ایم کو فراہم کی جانے والی مواصلاتی سروس ہے، جو گنیز ورلڈ ریکارڈز میں بھی درج ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ادارہ اب صرف سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ فکسڈ لائن لائسنس (ایف ایل ایل) کے حصول کے بعد ملک کے اہم علاقوں میں آپٹک فائبر انفراسٹرکچر کے پھیلاؤ پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ادارے کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز اور انتظامیہ کی نگرانی میں نیٹ ورک کی جدت کاری اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے جس کا بنیادی مقصد سیٹلائٹ، فائبر اور جدید ترین ٹیلی کام ٹیکنالوجیز کے ذریعے محفوظ، قابلِ اعتماد اور بلاتعطل مواصلاتی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔








