دودھ دینے والے جانوروں کی مجموعی کارکردگی کا انحصار متوازن خوراک پر ہوتا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ لائیو سٹاک سمبڑیال
دودھ دینے والے جانوروں کی مجموعی کارکردگی کا انحصار متوازن خوراک پر ہوتا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ لائیو سٹاک سمبڑیال

مزید خبریں
سیالکوٹ ۔ 24 جون (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سمبڑیال ڈاکٹر محمد افضل نے کہا ہے کہ دودھ دینے والی گائے اور بھینس کی صحت، دودھ کی پیداوار، افزائش نسل اور مجموعی کارکردگی کا انحصار متوازن خوراک پر ہوتا ہے۔ انہوں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متوازن خوراک میں توانائی، پروٹین، وٹامنز اور منرلز سب کی اہمیت ہے لیکن کیلشیم اور فاسفورس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، یہ دونوں منرلز جانور کے جسم میں ہڈیوں کی مضبوطی، دودھ کی پیداوار، تولیدی نظام اور میٹابولزم کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیلشیم ہڈیوں اور دودھ کا بنیادی منرل ہے ،جانور کے جسم میں موجود تقریبا 99 فیصد کیلشیم ہڈیوں اور دانتوں میں ذخیرہ ہوتا ہے، دودھ پیدا کرنے والی گائے یا بھینس روزانہ دودھ کے ذریعے بڑی مقدار میں کیلشیم خارج کرتی ہے، ایک لیٹر دودھ میں تقریبا 1.2 گرام کیلشیم موجود ہوتا ہے اس لیے زیادہ دودھ دینے والے جانوروں میں کیلشیم کی ضرورت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیلشیم ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی ،پٹھوں کی درست کارکردگی، اعصابی نظام کی فعالیت، دل کی دھڑکن کو متوازن رکھنا اور دودھ کی بہتر پیداوار دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیلشیم کی کمی سے دودھ کی پیداوار میں کمی، کمزوری اور سستی، دودھ بخار(ملک فیور) ،کھڑے ہونے میں دشواری، ہڈیوں کی کمزوری ہوتی ہے ،اگر خوراک میں کیلشیم کم ہو تو جسم اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہڈیوں سے کیلشیم نکالنا شروع کر دیتا ہے جس سے جانور کی صحت متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاسفورس توانائی اور افزائش کا منرل ہے ،فاسفورس جسم میں توانائی پیدا کرنے والے نظام (اے ٹی پی)کا اہم حصہ ہے اور ڈی این اے، آر این اے اور پروٹین میٹابولزم میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، یہ کیلشیم کے ساتھ مل کر ہڈیوں کی تشکیل اور مضبوطی میں بھی حصہ لیتا ہے،فاسفورس سے توانائی کی پیداوار، افزائش نسل میں بہتری ، ہڈیوں کی نشوونما، خوراک کے بہتر استعمال میں مدد اور جسمانی بڑھوتری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاسفورس کی کمی سے وزن میں کمی اور سست بڑھوتری ،دودھ کی پیداوار میں کمی، ہڈیوں کی کمزوری اور تولیدی مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں چارے اور مٹی میں فاسفورس کی کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ مویشیوں میں عام دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماہرین کے مطابق خوراک میں کیلشیم اور فاسفورس کا تناسب1.1 سے2.1 کے درمیان ہونا چاہیے، اگر یہ توازن خراب ہو جائے تو دونوں منرلز کا جذب متاثر ہوتا ہے اور جانور میں پیداواری و صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے مویشی پال حضرات کو ہدایت کی کہ معیاری منرل مکسچر کا باقاعدہ استعمال کریں، دودھ دینے والے جانوروں کو ان کی پیداوار کے مطابق اضافی منرلز فراہم کریں اور اچھی کوالٹی کا چارہ اور متوازن راشن استعمال کریں۔
انہوں نے کہا کہ فاسفورس اور کیلشیم کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ کریں، خشک دور اور بچھڑا جننے کے قریب جانوروں کی خصوصی غذائی دیکھ بھال کریں، زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لیے صرف اچھی نسل کافی نہیں بلکہ صحیح منرل نیوٹریشن بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیلشیم اور فاسفورس کی مناسب مقدار نہ صرف دودھ کی پیداوار بڑھاتی ہے بلکہ جانور کی صحت، تولیدی کارکردگی اور لمبی پیداواری زندگی کو بھی بہتر بناتی ہے، ایک چھوٹی سی غذائی کوتاہی کسان کو بڑے معاشی نقصان سے دوچار کر سکتی ہے لہذا منرلز کو جانوروں کی خوراک کا لازمی حصہ بنائیں۔








