اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹرافتخار حسین بھٹی نے کہا کہ دھان کے کاشتکار دھان کے تنے کی سنڈی سے بچائو کیلئے بروقت اقدامات کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پیر کو دھان کے کاشتکاروں کے نام اپنے ایک پیغام میں کیا۔
دھان کے کاشتکار دھان کے تنے کی سنڈی سے بچائو کیلئے بروقت اقدامات کریں،اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت سمبڑیال

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 10 اگست (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹرافتخار حسین بھٹی نے کہا کہ دھان کے کاشتکار دھان کے تنے کی سنڈی سے بچائو کیلئے بروقت اقدامات کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پیر کو دھان کے کاشتکاروں کے نام اپنے ایک پیغام میں کیا۔انہوں نے کہا کہ حملہ آور کیڑوں میں سب سے زیادہ نقصان دہ کیڑے تنے کی سنڈی، پتہ لپیٹ سنڈی، ٹوکا اور سفید پشت والا تیلہ ہیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے کہاکہ تنے کی سنڈی زیادہ تر سپر باسمتی اقسام پر حملہ آور ہوتی ہے ، پتہ لپیٹ سنڈی اور پشت والا تیلہ اری اور باسمتی دونوں اقسام پر حملہ آور ہوتا ہے، اسی طرح ٹوکا دھان کی پنیری اور فصل دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیڑوں کے تدارک کیلئے ان کیڑوں کو دستی جالوں سے پکڑ کر تلف کردیں، کاشتکار پتوں پر انڈوں کی ڈھیریوں کو تلف کریں اور رات کو روشنی کے پھندے لگائیں کیونکہ روشنی کے پھندے ان کیڑوں کے پروانوں کو تلف کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ان کیڑوں کا حملہ زیادہ ہو تو کیمیائی انسداد کیلئے زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے سفارش کردہ زہروں کا استعمال کریں۔








