دہشت گردی اور غیر ملکی قبضے کے خلاف عوام کے جائز حقِ خودارادیت کے درمیان واضح فرق کیا جائے،پاکستان

اقوام متحدہ۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی اور غیر ملکی قبضے کے خلاف عوام کے جائز حقِ خودارادیت کے درمیان واضح فرق کیا جانا ضروری ہے اور بین الاقوامی قانون اس موقف کی مکمل تائید کرتا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر محمد جواد اجمل نے گزشتہ روز سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق …

اقوام متحدہ۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی اور غیر ملکی قبضے کے خلاف عوام کے جائز حقِ خودارادیت کے درمیان واضح فرق کیا جانا ضروری ہے اور بین الاقوامی قانون اس موقف کی مکمل تائید کرتا ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر محمد جواد اجمل نے گزشتہ روز سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ سے متعلق بحث کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ فرق بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور جنرل اسمبلی کی قرارداد 46/51 کے تحت تسلیم شدہ ہے جو عوام کے حقِ خودارادیت کو قانونی حیثیت دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی تعریف بین الاقوامی معیارات اور قانونیت کے مطابق ہونی چاہیے۔اس تناظر میں پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال جیسا کہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض طاقتیں نام نہاد انتظامی اقدامات اور انسدادِ دہشت گردی کے بہانے مقامی آبادی کے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کو پامال کر رہی ہیں، جن میں جبری نقل مکانی، آبادی کا تناسب تبدیل کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، تشدد اور غیر انسانی سلوک شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کو بہت اہمیت دیتا ہے جو دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ دہشت گرد افراد یا تنظیموں کی فہرستوں میں کسی بھی طرح کا براہِ راست یا بالواسطہ امتیاز خصوصاً مذہبی بنیادوں پر ناقابلِ قبول ہے۔بدقسمتی سے اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے نے ایک خاص مذہب کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی غلط روش اختیار کی ہے جبکہ اسلام دشمن، انتہاپسند قوم پرست اور دائیں بازو کے انتہاپسند گروہوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جو دنیا بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ طرزِ عمل تبدیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹیاں مکمل طور پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار اور قانونی شفافیت سے ہم آہنگ نہیں ہیں لہٰذا انہیں مزید منصفانہ اور شفاف بنایا جانا چاہیے۔ہمیں (اقوام متحدہ) محتسب کے دفتر کو 1267 پابندیوں کی کمیٹی کے لئے مضبوط بنانا چاہیے اور اس کے مینڈیٹ کو توسیع دینی چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ بھارت نے مئی میں انسدادِ دہشت گردی کے جھوٹے بہانے کے تحت پاکستان کے شہری علاقوں پر حملہ کیا، جس میں 54 بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن میں 15 بچے اور 13 خواتین شامل تھیں جن میں سے کچھ شیر خوار تھے جبکہ پاکستان نے ریاستی دہشت گردی کی اس طرح کی مذموم کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنی قوت ارادی اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، ہمیں اس طرح کی مذموم کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ممالک انسدادِ دہشت گردی کے نام پر بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحد پار قتل و غارت کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔