گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی سازی اور ادارہ جاتی معاونت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، خیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں، پاکستان دہائیوں کے بعد امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا، پاکستان نے موثر سفارت کاری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مثبت شناخت مضبوط کی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پالیسی سازی اور ادارہ جاتی معاونت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی سازی اور ادارہ جاتی معاونت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، خیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں، پاکستان دہائیوں کے بعد امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا، پاکستان نے موثر سفارت کاری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مثبت شناخت مضبوط کی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او ) کی 10ویں سالگرہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ ایس ایس ڈی او مختلف اہم سماجی اور قومی نوعیت کے مسائل پر موثر انداز میں کام کر رہی ہے اور خاص طور پر انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اس کا کردار قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت کائونٹر ٹیررازم سٹریٹجی کی اشد ضرورت ہے، اس لیے ایسے اداروں کی کاوشیں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ڈی او نہ صرف انسداد دہشت گردی بلکہ انسانی سمگلنگ،منشیات کے پھیلائو اور دیگر مختلف سماجی مسائل کے حوالے سے بھی آگاہی، تحقیق اور رہنمائی کا کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم پارلیمنٹیرینز اور دیگر متعلقہ حلقوں کو مختلف اہم قومی اور سماجی معاملات پر رہنمائی فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے پالیسی سازی اور قانون سازی کے عمل میں بھی مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ ایس ایس ڈی او کی نوجوان اور متحرک ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں اور بطور سیاست دان اور بعد ازاں بطور گورنر بھی اس ادارے کی معاونت کی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کے مشن کو کامیاب کرے کیونکہ یہ تنظیم خیبر پختونخوا اور پاکستان کے لیے اہم خدمات انجام دے رہی ہے۔گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اگرنیشنل کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے بجٹ کے لیے کوئی درخواست دی ہے تو اسے ضرور دیکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں امن سب سے اہم ضرورت ہے اور اگر نیکٹا امن و امان کے قیام کے لیے وسائل مانگتی ہے تو اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والےادارے براہ راست جنگ لڑنے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ رہنمائی، پالیسی سازی اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے ریاستی اداروں کی مدد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی سرحد افغانستان کے ساتھ ملتی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں موثر سفارت کاری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مثبت شناخت مضبوط کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور تقریباً 47 سے 49 سال بعد دونوں ممالک کو ایک ہی میز پر مذاکرات کے لیے لانے میں معاونت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ جنگ نہیں بلکہ امن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہوگی اور ایسا معاہدہ اسلام آباد میں بھی طے پا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک عالمی طاقت کے صدر بھی متعدد بار پاکستان کے کردار کا ذکر کر چکے ہیں اور پاکستان کو خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کے لیے ایک مثبت قوت قرار دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج عالمی میڈیا میں پاکستان اور اسلام آباد کا ذکر امن، سفارت کاری اور مذاکرات کے تناظر میں کیا جا رہا ہے جو ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جو شخص آئین پاکستان، ریاست پاکستان اور قومی پرچم کو تسلیم نہیں کرتا اور ریاستی اداروں کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے، فوج، ایف سی اور پولیس کے اہلکاروں کو نشانہ بناتا ہے، اس کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغان باشندوں کی میزبانی کی ہے تاہم ہر ملک کی طرح پاکستان میں بھی قانونی دستاویزات اور ویزے کے نظام کے تحت رہائش ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا براہ راست اثر سب سے زیادہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر پڑتا ہے کیونکہ یہ سرحدی صوبے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات کی پہلی زد میں آتے ہیں۔








