رائٹ آف وے بل میں نجی جائیداد کے حقوق کے تحفظ کی سفارش، کمیٹی نے عبوری رپورٹ پیش کردی، وزارت قانون و انصاف

وزیراعظم کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے شقوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں نجی جائیداد کے حقوق کے تحفظ، مالک کی رضامندی اور قانونی ابہام دور کرنے کے لیے متعدد اہم سفارشات کی گئی ہیں۔

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):وزیراعظم کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے شقوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں نجی جائیداد کے حقوق کے تحفظ، مالک کی رضامندی اور قانونی ابہام دور کرنے کے لیے متعدد اہم سفارشات کی گئی ہیں۔وزارتِ قانون و انصاف کے ترجمان کے جاری اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نے بل میں مجوزہ ترامیم اور رائٹ آف وے سے متعلق موجودہ قانونی فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بل کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رابطوں کو فروغ دینا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے، تاہم بعض شقوں میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ نجی زمین، عمارت یا دیگر اثاثوں کے استعمال کے لیے مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ لازمی شرط ہوگی اور کسی بھی نجی جائیداد تک رسائی یا اس کے استعمال کا اقدام مالک کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جا سکے گا۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ قانون کا اطلاق وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے زیرِ انتظام املاک کے ساتھ ساتھ منظم نجی رہائشی منصوبوں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اسی نوعیت کے اداروں پر بھی واضح طور پر بیان کیا جائے۔ اس کے علاوہ نجی زمین، نجی جائیداد، کمپنیوں اور مشترکہ ملکیت کے مختلف انتظامات کی تعریفوں کو بھی قانون کا حصہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ زمین کے اوپر اور زیرِ زمین ٹیلی کام انفراسٹرکچر، رائٹ آف وے اور متعلقہ آلات کے معاملات کے لیے الگ الگ طریقہ کار وضع کیا جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی لائسنس یافتہ ادارے اور کسی عوامی یا رہائشی ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جائے، جو 45 دن کے اندر اس کا فیصلہ کرے گی۔مزید برآں کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثرہ فریق کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہو، جبکہ ٹربیونل کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا۔رپورٹ میں اوور رائیڈنگ کلاز اور مجوزہ جرمانوں کے دوبارہ جائزے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ قانون کی زبان، مقاصد اور شہری حقوق کے تحفظ میں مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔

وزارتِ قانون و انصاف کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے بنیادی اصولوں اور مجوزہ ترامیم پر اتفاق کر لیا ہے اور ایک ہفتے کے اندر ترمیمی مسودے کو حتمی شکل دے کر مزید غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔ وزارت نے واضح کیا کہ حکومت ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی کے ساتھ ساتھ شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہے۔