پاکستان نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں شہریوں پر ڈرون اور میزائل حملوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ دہراتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کی طرف واپس آئیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
روس، یوکرین سفارت کاری کی طرف واپس آئیں ، خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں، پاکستان
اقوام متحدہ۔25اگست (اے پی پی):پاکستان نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں شہریوں پر ڈرون اور میزائل حملوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ دہراتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کی طرف واپس آئیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز یوکرین کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں بحث کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فریقین کی جانب سے مختلف محاذوں پر حملوں میں اضافے، ان کی شدت اور پیمانے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کیونکہ اس سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے 15 رکنی سلامتی کونسل کو بتایا کہ توانائی اور خوراک کی فراہمی سے متعلق اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ ایسے حملوں سے عالمی سطح پر پہلے ہی کمزور غذائی اور توانائی کی سلامتی مزید متاثر ہوتی ہے اور اس کے اثرات جنگی علاقے سے باہر رہنے والے لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ یہ اجلاس سلامتی کونسل کےپانچ یورپی ارکان ڈنمارک، فرانس، یونان، لٹویا اور برطانیہ کی درخواست پر منعقد ہوا۔ اگست کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت ڈنمارک کے پاس ہے اور اجلاس کی صدارت ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کی۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ شہریوں، انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بنیادی ذمہ داری ہے اور فریقین کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں کشیدگی میں مزید اضافے، انسانی مصائب میں شدت اور دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے ارکان کو پاکستان کی جانب سے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے مطالبات بھی یاد دلائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے فوجی حل کی کوشش ترک کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا امن کا واحد قابلِ عمل راستہ باہمی طور پر قابلِ قبول پُرامن تصفیہ ہے، جو اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں، تمام فریقین کے جائز سکیورٹی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ ہو۔








