روس اور چین نے ایران کے جوہری پروگرام کی اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں توسیع کی امریکی قرارداد ویٹو کر دی
روس اور چین نے ایران کے جوہری پروگرام کی اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں توسیع کی امریکی قرارداد ویٹو کر دی

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔18ستمبر (اے پی پی):روس اور چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مینڈیٹ میں توسیع کے لئے امریکا کی حمایت یافتہ قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ گزشتہ روز روس اور چین کے دہرے ویٹو کے باعث قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ اس قرارداد کے ذریعے پابندیوں کی آزادانہ نگرانی کا نظام جاری رہنا تھا۔ یہ پابندیاں گزشتہ سال مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد دوبارہ عائد کی گئی تھیں۔
ایران نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ 15 رکنی سلامتی کونسل میں قرارداد کی حمایت میں 11 ووٹ پڑے جبکہ 2 مخالفت (روس اور چین) اور 2 ارکان (پاکستان اور صومالیہ) نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ پاکستان کی جانب سےرائے شماری میں حصہ نہ لینے کی وضاحت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ایران کے جوہری معاملے پر غور اب اس تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کی روح سے بہت دور ہے جس نے قرارداد 2231 (2015) کی منظوری کے وقت رہنمائی کی تھی۔ قرار داد 2231 نے جوائنٹ کامپری ہنسیو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) جسے ایران جوہری معاہدہ بھی کہا جاتا ہے کی توثیق کی تھی اور ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں ختم کرنے کا شیڈول بھی مقرر کیا تھا۔
پاکستانی سفیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر متفقہ راستہ ( non-consensual path ) اختیار کیا گیا، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات بنیادی اصول رہنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل اس موقف کا حامی رہا ہے کہ تصادم کی بجائے سفارتی رابطے کو ترجیح دی جائے اور ایران کے جوہری مسئلے کو پرامن ذرائع اور متعلقہ فریقین کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے مطابق حل کیا جائے۔ روسی اور چینی نمائندوں کا موقف تھا کہ موجودہ نگرانی کے نظام میں سیاسی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سزا دینے یا دبائو ڈالنے پر مبنی نگرانی کے اقدامات تعمیری سفارتی مذاکرات کو فروغ دینے کی بجائے صورتحال کو مزید مشکل بناتے ہیں۔
اس اقدام کو روس اور چین کی وسیع پالیسی کا حصہ بھی قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک مختلف عالمی فورمز پر مغرب کی قیادت میں چلنے والی پابندیوں کے نظام کی مخالفت اور اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے اہم کردار کی بھی حمایت کی۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ آئی اے ای اے وہ تکنیکی ادارہ ہے جسے متعلقہ حفاظتی معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اسے اپنا کام اپنے مینڈیٹ کے مطابق آزادانہ اور سیاسی مداخلت کے بغیر انجام دینا چاہیے۔
انہوں نے زیرِ التوا معاملات کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کے لیے سفارتی رابطے کی تجدید اور اسے جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) میں طے شدہ وعدوں پر عمل درآمد کریں، مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور سفارت کاری کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے مفاد میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیں۔








