روس حملے روکے تو یوکرین بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کو تیار ہے ، زیلنسکی

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر روس بھی ایسا ہی کرے تو یوکرین بعض اہداف پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔

کیف ۔15ستمبر (اے پی پی):یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر روس بھی ایسا ہی کرے تو یوکرین بعض اہداف پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔

شنہوا کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ اگر شراکت دار اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کہ روس یوکرین کے بجلی کے نظام، دیگر توانائی تنصیبات، اہم بنیادی ڈھانچے اور غذائی اشیا کی ترسیل کے راستوں کو نشانہ بنانے سے حقیقی طور پر گریز کرے تو یوکرین بھی اس کے جواب میں ایسے حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی جزوی جنگ بندی کو قابلِ اعتماد اور طویل المدت ہونا چاہیے اور یہ روس میں رواں ماہ ہونے والے انتخابات کے بعد بھی برقرار رہنی چاہیے۔زیلنسکی نے زور دیا کہ جنگ کا خاتمہ ضروری ہے اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز پر مبنی کشیدگی میں کمی کا اقدام امن کی جانب پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس اور یوکرین توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے پر متفق ہو گئے ہیں۔